خطبات محمود (جلد 37) — Page 130
خطبات محمود جلد نمبر 37 130 $1956 ހނ پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ عورتوں کو ڈاکٹری پڑھا کر اُن کی واقفین زندگی شادی کر دینی چاہیے۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ واقفین زندگی کو جماعت میں بنظر استحسان نہیں دیکھا جاتا اور دوسری طرف یہ کہا جاتا ہے کہ عورتوں کو ڈاکٹری ھا کر اُن کی واقفین زندگی سے شادی کر دینی چاہیے۔اگر جماعت کے لوگ اپنی ان پڑھ یا عام تعلیم یافتہ لڑکیاں بعض دوستوں کے خیال کے مطابق واقفین زندگی کو دینے پر تیار نہیں تو وہ ڈاکٹری پاس لڑکیاں اُن کے نکاح میں کیسے دے دیں گے؟ لیکن میں پھر کہوں گا کہ تالی و دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔جہاں جماعت کا فرض ہے کہ وہ واقفین زندگی کا اعزاز کرے وہاں واقفین کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے حالات کو دیکھیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ انہیں دے اُس پر قناعت کریں۔یہ نہ سمجھیں کہ کسی جرنیل یا وزیر کی بیٹی ہی انہیں ملے گی تو شادی کریں گے ورنہ نہیں۔پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ جماعت کے نوجوان مولوی کہلانے سے ڈرتے ہیں۔اس لیے وہ اس طرف نہیں آتے۔اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک ظاہر کا تعلق ہے ہم نے اس کا علاج کر دیا ہے۔چنانچہ ہم نے ان کی ڈگری کا نام شاہد رکھ دیا ہے۔وہ مولوی۔کہلائیں شاہد کہلا لیں۔لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لوگوں کو مولوی کہنے کی عادت پڑی ہوئی ہے اور اب اس عادت کو دور کرنا بہت مشکل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی کر مولوی کہا جاتا تو آپ پڑ جایا کرتے تھے۔مولوی محمد حسین بٹالوی آپ کو چڑانے کے لیے ہمیشہ مولوی غلام احمد کہا کرتا تھا جس پر آپ کو غصہ آ جاتا تھا اور آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں ہے نے کئی بار اسے کہا ہے کہ مجھے مولوی نہ لکھا کرو لیکن یہ مجھے چڑانے کے لیے ہمیشہ یہی لکھتا۔کہ مولوی غلام احمد کی یہ بات ہے۔مگر مولوی کہنے کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں کیونکہ دینی علوم کی طرف توجہ دلانے کے لیے مولوی کے سوا ہمارے پاس اور کوئی لفظ نہیں۔بہر حال ہم نے علماء کی ڈگری کا نام شاہد رکھا ہوا ہے۔اس سے بھی کسی حد تک مولویت پر پردہ پڑ جاتا ہے۔پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ ایسے واقفین زندگی کو منتخب کیا جائے جو ساری عمر کے لیے باہر رہیں اور نہ صرف ساری عمر کے لیے باہر رہیں بلکہ اپنی جائیداد بھی جماعت کو