خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 119

1956ء 119 خطبات محمود جلد نمبر 37 کھجور کے درخت پر چڑھ گیا۔ کھجور کا درخت ستر اسی فٹ اونچا ہوتا ہے اور پھر اس کی کوئی کا ستراتی اونچا کا شاخ بھی نہیں ہوتی کہ اُس کا سہارا لے کر اُس پر چڑھا جا سکے یا اُس سے اُترا جا سکے۔ وہ کسی نہ کسی طرح اُس پر چڑھ تو گیا لیکن جب اُس نے نیچے دیکھا تو ڈر گیا اور اس نے سمجھا کہ اگر میں گر گیا تو میری ہڈی پسلی ٹوٹ جائے گی۔ اس پر کہنے لگا کہ اے خدا! اگر تو مجھے بحفاظت نیچے اُترنے کی توفیق دے دے تو میں ایک اونٹ کی قربانی کروں گا۔ اور یہ کہہ کر اُس نے نیچے اُترنا شروع کیا۔ جب وہ ایک تہائی کے قریب نیچے اُتر آیا تو اتفاقاً وہاں کوئی چھوٹی سی شاخ تھی۔ اُس پر سہارا لے کر پھر اُس نے نیچے کی طرف دیکھا تو زمین اب قریب تھی اور اُسے پہلے کی طرح بھیانک دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اُس کا ڈر کچھ کم ہوا تو کہنے لگا اتنے فاصلے کے لیے اونٹ کی قربانی تو بہت زیادہ ہے۔ اگر میں نیچے چلا گیا تو بطور شکرانہ ایک گائے ضرور قربان کروں گا۔ اور پھر اُترنا شروع کیا۔ جب وہ ایک تہائی فاصلہ اور نیچے آ گیا تو اُس نے زمین کی طرف دیکھا۔ اب زمین اُسے پہلے سے بھی زیادہ قریب دکھائی دی اور اُس نے خیال کیا کہ گائے کی قربانی تو بہت زیادہ ہے۔ اگر میں نیچے پہنچ جاؤں تو ایک بکری کی قربانی تو ضرور کروں گا اور پھر اُترنا شروع کیا۔ جب وہ زمین سے صرف تین چار گز کے فاصلہ پر آ گیا تو کہنے لگا اتنے فاصلہ کے لیے ایک بکری کی قربانی بھی بہت زیادہ ہے۔ اگر نیچے پہنچ گیا تو ایک مرغی کی قربانی ضرور کروں گا۔ جب وہ ایک دوگز اور نیچے آگیا تو اُسے مرغی کی قربانی بھی بڑی معلوم ہوئی اور کہنے لگا مرغی نہ سہی ایک انڈا تو خدا تعالیٰ کی راہ میں دے ہی دوں گا۔ جب وہ زمین پر پہنچ گیا تو اُس نے اپنی شلوار میں سے ایک جُوں نکالی اور اُسے مار کر کہنے لگا جان کے بدلے جان۔ چلو! قربانی ہو گئی۔ یہی حال اُن لوگوں کا ہے جو اپنے بچوں کو چھوٹی عمر میں تو وقف کر دیتے ہیں لیکن اگر ان میں سے کوئی ہوشیار ہو تو کہہ دیتے ہیں یہ تو ہماری بات نہیں مانتا، دوسرے بچہ کو وقف کر دیں گے۔ لیکن پھر دوسرے کے متعلق خط آ جاتا ہے کہ اس کی صحت کمزور ہے اس کے وقف کا کوئی فائدہ نہیں ۔ کئی لوگ ایسے ہیں جن کے چھ چھ بچے تھے اور انہوں نے کہا کہ یہ چھ کے چھ بچے دین کی خدمت کے لیے وقف ہیں لیکن اب وہ چھ کے چھ دنیا کے کاموں میں