خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 109

$1956 109 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور موجودہ اعصابی کمزوری دور ہو۔اس کے بعد میں اختصار کے ساتھ دوستوں کو ایک واقعہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو مجھے لاہور میں پیش آیا۔میں ایک دوست کو ملنے کے لیے اُس کے مکان پر گیا تو اتفاقاً وہاں حکومت مغربی پاکستان کے ایک ذمہ دار افسر بھی بیٹھے ہوئے تھے۔وہ میرے پرانے واقف تھے۔اس لیے جب میں وہاں گیا تو وہ کھڑے ہو گئے اور بڑی محبت سے ملے۔اس کے بعد بیٹھے تو انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران میں بتایا کہ میں چند دن ہوئے حکومت مغربی پاکستان کے ایک دوسرے ذمہ دار افسر کو ملنے کے لیے گیا تھا۔انہوں نے باتوں باتوں میں اس بات کا ذکر کیا کہ میرزائی بھی آرام سے نہیں بیٹھتے۔وہ روزانہ نئی نئی باتیں نکالتے رہتے ہیں جس کی و وجہ سے دوسرے مسلمانوں کو اشتعال آ جاتا ہے۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ اب میرزائیوں نے ایک نئی تحریک شروع کر دی ہے جس کی وجہ سے دوسرے مسلمان چڑتے ہیں۔آپ بتائیں کہ یہ کیا بات ہے؟ میں نے انہیں بتایا کہ ہم نے کوئی نئی تحریک شروع نہیں کی۔ہاں 1934ء میں ایک تحریک جاری کی گئی تھی جس پر بائیس سال گزر چکے ہیں اور چونکہ اس کا نام تحریک جدید ہے اس لیے مخالفوں کو موقع مل گیا ہے کہ وہ بالا افسروں سے کہیں کہ ہم نے اب ایک نئی تحریک شروع کر دی ہے۔اس پر وہ ہنس پڑے اور کہنے لگے 1934 ء والی تحریک کا تو مجھے بھی علم ہے۔میں بھی اُسی سال مذہبی جوش میں احرار کے جلسہ میں شمولیت کے لیے قادیان گیا تھا اور مجھے یاد ہے کہ آپ نے اُن دنوں ایک نئی تحریک جاری کی تھی۔پھر میں نے انہیں بتایا کہ اول تو جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں یہ تحریک نئی نہیں بلکہ 1934 ء سے جاری ہے اور اس پر بائیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔دوسرے اگر یہ تحریک نئی بھی ہو تب بھی مسلمانوں کے لیے کی اس پر چڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔کیونکہ اس تحریک کا مقصد یورپ اور امریکہ میں تبلیغ اسلام کرنا ہے۔اور اگر یورپ اور امریکہ میں اسلام کی تبلیغ کی جائے تو اس میں پاکستانی مسلمانوں کو چڑانے کی کیا ضرورت ہے۔اس پر انہوں نے بتایا کہ وہ کئی دفعہ حکومت کی طرف سے غیر ممالک کے دورہ پر گئے ہیں اور وہاں انہوں نے ہمارے مبلغوں کو دیکھا ہے اور ان کا تاثر یہ ہے کہ وہ بہت عمدہ کام کر رہے ہیں۔بہر حال میں نے انہیں بتایا کہ ہم نے کوئی