خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 48

$1956 48 خطبات محمود جلد نمبر 37 نہیں آتے۔زیادہ وظیفہ ملنے کی وجہ سے وہ تعلیم الاسلام کالج میں چلے جاتے ہیں۔جامعة المبشرین میں ایک طالب علم کو چالیس روپے ماہوار وظیفہ ملتا ہے اور تعلیم الاسلام کار میں وظیفہ کا معیار پچھتر روپے ماہوار فی طالبعلم ہے۔اگر وظیفہ کا معیار ایک کر دیا جائے نہ جامعة المبشرین میں طلباء کثرت سے آنے لگیں گے۔میں نے کالج کے پرنسپل کو بلایا اور اُن سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ بات سرے سے ہی غلط ہے۔تعلیم الاسلام کالج کے طلباء کو وظیفہ ملتا ہی نہیں۔جو لڑ کا زندگی وقف کر کے آتا ہے اور تحریک جدید اُس کے لیے تعلیمی وظیفہ منظور کرتی ہے اُسے جامعتہ المبشرین میں بھیج دیا جاتا ہے وہ کالج میں داخلہ کے لیے آتا ہی نہیں۔اس لیے یہ سوال ہی باقی نہیں رہتا کہ کالج کے طلباء کو پچھتر روپے ماہوار کے حساب سے وظیفہ دیا جاتا ہے اور جامعتہ المبشرین کے طلباء کو چالیس روپے ماہواری کے حساب سے۔میں نے جامعتہ المبشرین کے ایک اُستاد کو اس بات کے لیے مقرر کیا ہے کہ وہ وکالت تعلیم میں جائے اور اُن سے وظائف کی لسٹ لائے تا میں معلوم کر سکوں کہ وہ کونسے طلباء ہیں جن کو زیادہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔درحقیقت اس قدر وظیفہ یہاں کسی کو دیا ہی نہیں کی جاتا۔سب سے زیادہ وظائف غالباً یونیورسٹی میں فرسٹ اور سیکنڈ آنے والوں کو جو بلی فنڈ ނ دیئے جاتے ہیں اور وہ بھی پچھتر روپیہ ماہوار نہیں بلکہ چالیس یا پچاس روپے ماہوار ہیں۔پس سوال تو پھر بھی باقی رہا کہ عیسائیوں میں یہ کیوں سوال پیدا نہیں ہوتا کہ انہیں یڈمنسٹریٹو سائڈ والوں سے کم تنخواہیں یا وظائف ملتے ہیں حالانکہ ایڈمنسٹریٹو سائڈ والے ملازمین بھی عموماً اُنہی کالجوں کے فارغ التحصیل ہوتے ہیں جن میں پادری تعلیم حاصل کرتے ہیں اور انہیں پادریوں کے مقابلہ میں دس دس گنا زیادہ تنخواہیں ملتی ہیں۔پس ان دونوں طلباء نے وہی بات دُہرا دی جو میں نے خطبہ میں بیان کی تھی کوئی نئی بات انہوں نے پیش نہیں کی۔بہر حال ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس نقص کی وجہ کیا ہے؟ آخر پہلے ہمیں بلا تنخواہ کام کرنے والے ملتے رہے ہیں یا نہیں؟ مثلاً حضرت ابو بکر کو کونسی تنخواہ ملتی تھی؟ حضرت عمرؓ کو کونسی تنخواہ ملتی تھی؟ پھر باوجود کوئی تنخواہ نہ ملنے کے انہوں نے عظیم الشان کام کیا۔ہمارے سلسلہ کی ابتدائی تاریخ کو بھی دیکھا جائے تو ایسی کئی مثالیں مل جاتی ہیں۔میں نے بتایا تھا کہ مولوی محمد علی صاحب کو