خطبات محمود (جلد 37) — Page 593
$1956 593 خطبات محمود جلد نمبر 37۔پیدا نہ ہوتی اور اگر حکومت بغداد کے گورنر اپنی ہی حکومت کے خلاف نہ کھڑے ہو جاتے اور یہ نہ کہتے کہ بغداد کا خلیفہ جو حکم دے رہا ہے وہ غلط ہے تو نہ بنو عباس کی حکومت ختم ہوتی اور نہ بنوامیہ کی حکومت ختم ہوتی۔بلکہ دونوں حکومتیں قیامت تک چلتی چلی جاتیں۔یہ دونوں حکومتیں صرف اس لیے تباہ ہوئیں کہ ان کے بعض گورنروں نے یہ خیال کر لیا کہ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے عقل بخشی ہے اس لیے وہ عقل سے کام لیں گے اور ہر بات میں اپنی حکومت کی اطاعت نہیں کریں گے۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے حکومتیں نکل گئیں، اسلام کے شان و شوکت جاتی رہی اور آج مسلمان در بدر بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔اور یا تو مسلمانوں کے نام سے تمام دنیا ڈرتی تھی اور یا یہ حالت ہے کہ وہ اکثر جگہ محکوم اور ذلیل ہیں۔یہ کتنا بڑا فرق ہے جو پیدا ہوا۔اسلام کے ابتدائی زمانہ میں رومن حکومت کی وہی حیثیت تھی جو اس وقت امریکن حکومت کی ہے۔حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ کے جھگڑے کے وقت رومی بادشاہ نے سمجھا کہ اس وقت میں حملہ کروں اور اسلامی ملک فتح کرلوں۔اس کے دربار میں ایک پادری تھا جو بڑا عقلمند تھا۔اُس نے بادشاہ کی تیاری دیکھی تو ایک بڑی گندی مثال دے کر اُسے حملہ کرنے۔روکا۔مثال تو اُس نے بڑی گندی دی تھی لیکن اس سے جو نتیجہ اُس نے نکالا وہ صحیح تھا۔وہ کہنے لگا بادشاہ سلامت! آپ دو گتے لائیں اور انہیں کچھ عرصہ بھوکا رکھ کر اُن کے سامنے گوشت ڈالیں۔بادشاہ نے ایسا ہی کیا۔وہ گوشت دیکھ کر آپس میں لڑنے لگ گئے۔اس پر وہ کہنے لگا اب آپ ان پر شیر چھوڑ دیں۔شیر کو دیکھتے ہی ان دونوں نے لڑائی بند کر دی اور وہ شیر پر جھپٹ پڑے۔یہ مثال دے کر اُس نے کہا کہ مسلمان بھی اس وقت آپس میں لڑ رہے ہیں جس وقت آپ نے ان پر حملہ کیا وہ اکٹھے ہو جائیں گے۔اس لیے آپ ان کی باہمی لڑائی سے کوئی غلط نتیجہ نہ نکالیں۔پھر اُس پادری نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ پہلے ان کو خبر دے دیجیے کہ ہم حملہ کرنے والے ہیں۔پھر دیکھیں کہ مسلمان کیا کرتے ہیں؟ چنانچہ رومی بادشاہ نے اپنے جرنیلوں کو حکم دیا کہ یہ خبر باہر نکلنے دو کہ ہم اسلامی ملک پر حملہ کرنے والے ہیں۔جب یہ خبر دمشق پہنچی تو حضرت معاویہؓ نے اُسے پیغام بھیجا کہ شاید تم نے یہ سمجھا ہو گا کہ اس وقت