خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 559

559 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ ایک انصاری نے اپنے مہاجر بھائی سے کہا کہ میری دو بیویاں ہیں تم ان میں سے ایک کو پسند کر لو۔میں اُس کو طلاق دے دیتا ہوں۔تم اُس سے شادی کر لینا۔5 پھر وہ لوگ اپنی جائیدادیں تقسیم کرنے کے لیے تیار ہو گئے بلکہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو کچھ دینا چاہا تو انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ ہمارے مہاجر بھائیوں کو دے دیجیے۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب دنیا میں کسی کی قبولیت پھیلائی جاتی ہے تو لوگ اس کے لیے ایسی ایسی قربانیاں کرتے ہیں کہ قریب کے رشتہ داروں میں بھی وہ قربانی نہیں پائی جاتی۔وہ صرف منہ سے نہیں کہتے کہ گائے کی اٹھی لے لو بلکہ وہ عملاً بھی دیتے ہیں۔صرف اخبار میں یہ شائع نہیں کرتے کہ ہماری اسٹیج بھی اور ہمارا روپیہ بھی اور ہماری تنظیم بھی تمہاری تائید میں ہے مگر دیتے کچھ نہیں۔یہ صرف منہ کی باتیں ہیں۔جب یہ اخبار میں چھپیں تو ایڈیٹر کو تو تنخواہ مل گئی کیونکہ اُسے کچھ سطور کم لکھنی پڑیں۔لیکن انہیں کچھ بھی نہیں ملا۔ہاں! ایڈیٹر کے ذمہ جو کام تھا اُسے اُس سے کم کرنا پڑا۔اسے سارا اخبار بھرنے کی جو تنخواہ ملتی تھی وہ تو اُس نے لے لی لیکن اس کے مقابلہ میں اسے کام کم کرنا پڑا۔لیکن ان لوگوں کو تو کچھ بھی نہ ملا۔اور پھر ایڈیٹر کو بھی جو ملا وہ حلال کا نہ ملا کیونکہ اُسے تنخواہ کے مقابلہ میں کم کام کرنا پڑا۔ان لوگوں کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے مولوی برہان الدین صاحب کی ایک ہمشیر فوت ہو گئیں تو وہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کہنے لگے حضور! خواب میں مجھے ایک دن میری ہمشیرہ ملیں تو مجھے خیال آیا میں اُس سے پوچھوں کہ تمہیں جنت ملی ہے یا نہیں؟ چنانچہ میں نے اُس سے یہ بات دریافت کی تو اُس نے بتایا کہ ہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے بخش دیا ہے اور جنت میں جگہ بھی دے دی ہے۔پھر میں نے پوچھا کہ تم وہاں کام کیا کرتی ہو؟ تو کہنے لگی میں بیر بیچتی ہوں۔کہنے لگے خواب میں میں نے کہا بہن! جنت میں بھی تجھے بیر بیچنے ہی نصیب ہوئے۔ان لوگوں کو بھی دیکھ لو ہمیں چھوڑ کر گئے تھے مگر وہاں بھی انہیں کچھ نہ ملا۔پیغام صلح نے صرف چند سطریں شائع کر دیں اور ایک شخص نے جسے اپنی جماعت میں بھی کوئی حیثیت حاصل نہیں یہ لکھ دیا کہ ہماری تنظیم تمہاری تائید میں ہے۔یہ وہی بیر بیچنے والی