خطبات محمود (جلد 37) — Page 518
$1956 518 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور اگر ایک لاکھ آدمی جلسہ پر آئے تو چھ لاکھ روپیہ خرچ ہوا۔اگر ڈیڑھ لاکھ آدمی آئے تو نو لاکھ روپیہ خرچ ہوا لیکن موجودہ شرح کے لحاظ سے تو چھ لاکھ آدمی آئے تو ڈیڑھ لاکھ روپیہ میں کام بن جائے گا، ایک لاکھ آدمی آئے تو ستر اسی ہزار روپیہ میں گزارہ ہو جائے گا۔بہر حال جماعت کو چاہیے کہ وہ وقت پر چندہ دے تا کہ کارکن سہولت سے چیزیں خرید سکیں۔دوسرے میں یہ تحریک کرنا چاہتا ہوں کہ ربوہ کے لوگ جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ مکانات دیں۔گو اب مکانات خدا تعالیٰ کے فضل سے کافی بن گئے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ جلسہ پر آنے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔گو میں نے دیکھا ہے کہ کچھ مدت سے عورتوں میں یہ رو چل رہی ہے کہ وہ الگ مکانوں کا مطالبہ نہیں کرتیں۔پہلے انہی کی طرف سے اصرار ہوتا تھا کہ ہم کو مردوں کے ساتھ الگ مکان ملے۔اب دوسال سے لجنہ اماء اللہ کی منتظمات سے پتا لگا ہے کہ عورتیں آ کر کہتی ہیں کہ ہم الگ مکانات میں نہیں رہیں گی۔مرد ہمیں مکانوں میں بٹھا کر خود جلسہ پر چلے جاتے ہیں اور ہم جلسہ سننے سے محروم رہتی ہیں۔اس لیے ہم عورتوں میں ہی رہیں گی مردوں کے ساتھ نہیں رہیں گی۔کیونکہ مردوں کے ساتھ رہنے کا فائدہ تو تب تھا کہ وہ ہمارے پاس رہتے لیکن وہ ہمیں مکانوں میں بٹھا کر اور باہر سے گنڈا لگا کر چلے جاتے ہیں اور سارا دن جلسہ میں مصروف رہتے ہیں۔اور بعض اوقات تو مرد اُس وقت آتے ہیں جب واپس جانے کے لیے لاری تیار ہوتی ہے اس لیے ہم عورتوں میں ہی رہیں گی۔اگر اور کچھ نہیں تو بجائے اکیلے بیٹھنے کے دوسری عورتوں سے باتیں تو کریں گی۔اس طرح ہمارا دل بھی لگے گا اور اگر کوئی ضرورت ہوئی تو عورتوں کے ذریعہ پوری کر لیں گی۔بہر حال قادیان کے خلاف میں نے یہاں یہ بات دیکھی ہے کہ عورتیں الگ مکانات میں رہنے کے لیے اصرار نہیں کرتیں۔قادیان میں عورتوں کی طرف سے اصرار ہوتا تھا کہ انہیں مردوں کے ساتھ رہنے کے لیے الگ ٹھکانا مل جائے۔لیکن یہاں اس بات پر زور ہوتا ہے کہ ہمیں عورتوں کے ساتھ رہنے دیا جائے۔لیکن پھر بھی چونکہ جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے اس لیے اس رو کے باوجود ہمیں کافی مکانوں کی ضرورت ہو گی۔پس ربوہ والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مکانات کے