خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 503

خطبات محمود جلد نمبر 37 503 $1956 اس مضمون نے بتا دیا ہے کہ پیغامیوں کی پہلی بات کہ ہمارا اس فتنہ سے کوئی تعلق نہیں بالکل جھوٹ تھی کیونکہ اب انہوں نے صاف طور پر لکھ دیا ہے کہ ہم ربوہ کے باغیوں کو پوری طرح مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔ہمارا نظام ان کے لیے حاضر ہے، ہمارا روپیہ ان کے لیے حاضر ہے اور ہم اپنا اسٹیج انہیں تقریریں کرنے کے لیے دیں گے۔لیکن میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اے بہادرو! تمہارے مولوی محمد علی صاحب بڑے تھے یا عبدالمنان بڑا ہے؟ تم نے مولوی محمد علی صاحب کی کتنی مدد کی تھی، تمہاری تنظیم اور تمہارا روپیہ ان کے کس کام آیا تھا؟ تمہاری تنظیم اور روپیہ ان کے اتنا ہی کام آیا کہ انہوں نے مرتے وقت وصیت کی کہ تمہارے اکابر اُن کے جنازہ کو بھی ہاتھ نہ لگائیں اور آج تم ان باغیوں سے کہہ رہے ہو کہ تم ہمارے نظام میں شامل ہو جاؤ۔ہماری تنظیم، ہمارا روپیہ اور ہمارا اسٹیج تمہارے لیے وقف ہے۔اگر تم اتنے بہادر تھے تو تم نے خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کی کیوں مدد دی نہیں کی تھی ؟ مولوی محمد علی صاحب نے خود لکھا ہے کہ میں نے ساری عمر جماعت کی خدمت کی ہے۔لیکن اب جبکہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں مجھ پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ میں جماعت کا سولہ ہزار روپیہ کھا گیا ہوں اور مرتد ہو گیا ہوں۔کیا یہی مدد تھی جو تم نے اپنی تنظیم اور روپیہ سے اپنے امام کی کی؟ کہ اب تم منان اور اس کی پارٹی کی اس سے بھی زیادہ مدد کرو گے۔جس کے معنے یہی ہو سکتے ہیں کہ اس سے بھی زیادہ گندے الزام ان پر لگاؤ گے۔اگر مولوی محمد علی صاحب سے تم نے یہ کہا تھا کہ وہ سولہ ہزار روپیہ کھا گئے ہیں تو تھوڑے دنوں میں ہی مولوی صدر الدین صاحب، مولوی عبدالمنان اور مولوی عبدالوہاب کے متعلق یہ کہو گے کہ یہ بیتیس بیتیس ہزار روپیہ کھا گئے ہیں۔ان کے احسانات خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب سے زیادہ نہیں۔پھر ان کی قابلیت بھی اُن جیسی نہیں۔وہ دونوں غلام رسول نمبر 35 اور عبدالمنان سے زیادہ عالم تھے اور تم پر اُن کے احسانات تھے۔ان میں سے ایک نے انگلینڈ میں مشن قائم کیا اور دوسرے نے قرآن کریم کا ترجمہ انگریزی زبان میں کیا۔لیکن تمہاری تنظی اور تمہارا روپیہ اُن کے کسی کام نہ آیا۔تم نے اُن کی زندگی میں ہی اُن کی مخالفت کی، انہیں مرتد قرار دیا۔ان میں سے ایک پر یہ الزام لگایا کہ اُس نے جماعت کا سولہ ہزار روپیہ۔