خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 489

$1956 489 خطبات محمود جلد نمبر 37 اگر ہمارے زمینداروں کی آمد بھی تین تین ہزار روپیہ فی ایکڑ ہو تو ان کی آمد ساڑھے پینتالیس کروڑ روپیہ سالانہ ہو جاتی ہے۔اگر وہ اس کا چھ فیصدی چندہ دیں تو جماعت کا چندہ دوکروڑ ستر لاکھ بن جاتا ہے۔اور اگر دس فیصدی دیں تو جماعت کا چندہ چار کروڑ پچاس لاکھ روپیہ سالانہ بن جاتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت روز بروز بڑھ رہی ہے۔گو جماعت کے دوست تبلیغ میں سستی کرتے ہیں لیکن پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے لوگوں کے کانوں میں احمدیت کی تعلیم ڈالتے رہتے ہیں اور وہ کھنچے ہوئے احمدیت کی طرف جاتے ہیں۔اگر ہمارے زمیندار محنت کریں تو خود بھی انہیں فائدہ ہوگا یعنی ان کی مالی حالت بہتر ہو گی اور ان کے بچے تعلیم پائیں گے اور ساتھ ہی تبلیغ بھی ہو گی اور وہ كُنتُم خَيْرَ اُمَّةِ میں داخل ہو جائیں گے اور ان کا نام خدا تعالیٰ کے حضور پہلے نمبر پر لکھا جائے گا۔دیکھو! اگر تم زیادہ نمازیں پڑھو گے تو اس کا ثواب صرف تمہارے حساب میں لکھا جائے گا۔لیکن اگر تم زیادہ تبلیغ کرو گے تو ساری دنیا اس سے فائدہ اُٹھائے گی اور ساری دنیا کے ثواب میں تم شریک ہو جاؤ گے۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کے بعض دوست ایسے ہیں جو شاید دورو پیہ چندہ دیتے ہیں لیکن جب کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں تو بڑے فخر سے سینہ پر ہاتھ مار کر کہتے ہیں کہ ہم امریکہ میں تبلیغ کر رہے ہیں، جرمنی میں تبلیغ کر رہے ہیں، انگلینڈ میں تبلیغ کر رہے ہیں، سوئٹزر لینڈ میں تبلیغ کر رہے ہیں، انڈونیشیا میں تبلیغ کر رہے ہیں۔ان کی مثال ویسی ہی ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کسی زمیندار کے ہاں شادی تھی۔ہمارے ہاں رواج ہے کہ شادیوں پر لوگ نیوتا دیتے ہیں۔اُس شادی میں ایک نند اور ایک بھاوجہ دو عورتیں گئیں۔نند غریب تھی۔اس نے ایک کہانی روپیہ نیوتا دیا لیکن بھاوجہ امیر تھی اُس نے ہمیں روپے نیوتا دیا۔کسی نے نند سے پوچھا بہن! تم نے کتنا نیوتا دیا؟ تو اُس نے بڑے فخر سے کہا میں تے بھائی اکیس۔اسی طرح ان لوگوں کی مثال ہے۔مجالس میں بیٹھ کر وہ بڑے فخر سے کہیں گے کہ ہم فلاں فلاں ملک میں تبلیغ کر رہے ہیں۔لیکن جب ان سے پوچھا جائے کہ تم نے اس کام کے لیے کتنا چندہ دیا ہے؟ تو بعض دفعہ وہ کہیں گے ہم نے آٹھ آنے دیئے تھے۔وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ تبلیغ ان لوگوں کے