خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 468

$1956 468 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہمارے اپنے مذہب والے تو کو ٹتے ہیں اور تم اتنا انصاف کر رہے ہو کہ واپس جانے سے پہلے ہمارا ٹیکس بھی ہمیں واپس کر رہے ہو۔تو دیکھو کس طرح یہ قوم أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ہو گئی۔اسی طرح جب بحرین کے بادشاہ نے اسلام قبول کیا تو اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لکھا کہ يَا رَسُولَ الله! میرے ملک میں یہودی بھی ہیں اور عیسائی بھی ہیں، ایرانی بھی ہیں اور عرب بھی ہیں۔آپ مجھے بتائیں کہ میں ان میں سے کس کو اپنے ملک میں رہنے دوں اور کس کو نکال دوں؟ آپ نے لکھا ہر قوم کو اپنے ملک میں رہنے دو۔میں صرف یہ حکم دیتا ہوں کہ ان میں سے جس کے پاس زمین نہ ہو اس کو سال کا غلہ اور کپڑا دے دیا کرو۔تو یہ بھی اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کی ایک مثال ہے کہ کوئی شخص کسی قوم کا بھی ہو اسلام اس کی خدمت اور فائدہ کو مدنظر رکھتا ہے۔ނ پھر یہ تو ابتدائی زمانہ کی باتیں ہیں جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت - فائدہ اُٹھانے والے لوگ موجود تھے مگر دیکھو! یہ تاثیر اتنی دور تک چلی کہ ہندوستان میں سب سے پہلی مسلمان حکومت حکومت غلاماں تھی۔شہاب الدین غوری جب ہندوستان پر حملہ کرنے کے بعد واپس ہوا تو جاتی دفعہ اُس نے اپنے ایک غلام کو بلا کر کہا کہ تم نے بڑی قربانی کی ہے اس لیے میں سارا ہندوستان تمہیں دیتا ہوں۔چنانچہ وہ غلام بادشاہ رہا اور کئی پشتوں تک اُس کے خاندان کی بادشاہت چلی۔اس خاندان کی حکومت حکومتِ غلاماں ہی کہلاتی ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام نے مساوات کی جو رو چلائی تھی ، تمام بنی نوع انسان سے محبت اور پیار کی جو رو چلائی تھی وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی چھ سو سال تک چلتی چلی گئی۔عرب سے لے کر ہندوستان تک وہ لہر آئی اور ہندوستان میں بھی غلاموں کی سلطنت قائم ہو گئی۔پس أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بتایا ہے کہ تم کو تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ملک میں جب کبھی سیلاب آتا ہے اور احمدی لوگوں کی خدمت کرتے ہیں تو درحقیقت اسی آیت پر عمل کرتے ہوئے وہ لوگوں کی