خطبات محمود (جلد 37) — Page 420
$1956 420 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہوئے ہیں جو پرانے زمانوں میں مسلمانوں نے یا دوسری اقوام نے نکالے تھے۔مثلاً فراعنہ کی قوم میں جو ممیوں کے لیے ایجادیں کی گئی تھیں یورپ والوں نے اُن کی جستجو چھوڑی نہیں بلکہ ابھی تک وہ ان کی تحقیق میں لگے ہوئے ہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جو طریق ہم نے بڑی محنت اور دماغ سوزی کے بعد نکالا ہے وہ ناقص ہے۔ہم بعض دوائیں نسوں میں بھر کر لاشوں کو محفوظ تو رکھ سکتے ہیں مگر ان دواؤں کا اثر صرف آٹھ دس دن تک رہتا ہے۔اس کے بعد لاش محفوظ نہیں رہ سکتی۔لیکن فراعنہ کے وقت میں جن لاشوں کو دوائیں لگا کر محفوظ کیا گیا تھا وہ ہزاروں سال تک بھی خراب نہیں ہوئیں۔میں نے خود منفتاح کی لاش کو (جو حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ کا فرعون تھا) آج تک محفوظ دیکھا ہے۔ہمارا تو یہی یقین ہے کہ منفتاح حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ کا ہی فرعون تھا کیونکہ اس سے قرآن کریم کی ایک پیشگوئی پوری ہوتی ہے۔لیکن عیسائیوں کی یہ عادت ہے کہ وہ اسلام کی ہر بات کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ منفتاح حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ کے فرعون کا بیٹا تھا تا کہ قرآن کریم کی پیشگوئی جھوٹی ثابت ہو۔لیکن ان کی قرآن کریم سے دشمنی تو ہمیشہ سے چلی آئی ہے اس لیے ان کا یہ رویہ کوئی قابلِ تعجب نہیں۔بہر حال فراعنہ کے وقت میں لاشوں میں جو دوائیاں بھری جاتی تھیں اُن کی وجہ سے وہ لاشیں کئی کئی ہزار سال سے محفوظ چلی آتی ہیں اور آجکل کے لوگوں کی ایجاد کردہ دوائیں ابھی تک اُن کا مقابلہ نہیں کر سکیں۔یہی حال دوسرے علوم کا ہے۔میں یورپ سے علاج کرا کے واپس آیا تو اگر چہ اُس وقت ستمبر کا مہینہ تھا مگر میرے جسم میں یہ علامت ظاہر ہوئی کہ رات کو کپڑا اوڑھنے کے باوجود مجھے شدید سردی لگتی جس۔میرا جسم تھر تھر کانپنے لگ جاتا۔ڈاکٹروں نے اس کا بہت علاج کیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔آخر یہ تجویز ہوئی کہ کسی طبیب کو بلایا جائے۔چنانچہ ایک طبیب کو جو حکیم انصاری صاحب نابینا کے بیٹے ہیں دہلی سے بلانے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے اتنی فیس مانگی جو ہمیں معقول نظر نہ آئی اس لیے ہم نے انہیں بلانے کا ارادہ ترک کر دیا۔لیکن تھوڑے ہی دنوں کے بعد یکدم اُن کا تار آیا کہ میں لاہور آ گیا ہوں مجھے بلا لیا جائے۔چنانچہ ہم نے انہیں بلا لیا۔