خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 403

$1956 403 خطبات محمود جلد نمبر 37 اللہ تعالیٰ نے ان کی انہی باتوں کی وجہ سے ان کی مرض کو بڑھا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسی تدبیر کرے گا کہ ان کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے ان کو دردناک عذاب پہنچے گا۔دوسری طرف قرآن کریم فرماتا ہے کہ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا 5 جب تک ہم رسول نہ بھیج لیں قوم پر عذاب نازل نہیں کیا کرتے۔اب بتائیے کہ اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے کہ بسا اوقات لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لا رہے ہیں لیکن درحقیقت وہ مومن نہیں ہوتے۔اللہ تعالیٰ ان کی مرض کو بڑھاتا چلا جاتا ہے اور آخر ان کو عذاب دینے کے لیے رسول مبعوث کرتا ہے۔اب آپ خود ہی بتائیں کہ تمیں سیپاروں میں سے آپ نے آیت پڑھی تھی اور اس نیت سے پھٹی تھی کہ مرزا صاحب بچے ثابت نہ ہوں لیکن یہی آیت آپ کی صداقت کا ثبوت ہے۔اس پر وہ سخت حیران ہوا اور کہنے لگا کہ بیشک اس آیت سے تو میرا اعتراض حل ہو جاتا ہے۔غرض سورة فاتحہ میں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم 6 والی دعا بڑی جامع دعا ہے لیکن افسوس ہے کہ لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ورنہ ہدایت کا میسر آنا ان کے لیے کوئی مشکل نہ رہے۔قادیان میں ایک دفعہ ایک ہندو میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے میرے آقا نے آپ کے پاس بھجوایا ہے اور دریافت کیا ہے کہ کیا نٹور ملنے کا بھی کوئی طریق ہے؟ پہلے تو اُس نے یہ نہ بتایا کہ کون اُس کا آتا ہے اور وہ کہاں رہتا ہے اور بات کو چھپانا چاہا مگر جب میں نے جرح کی تو کہنے لگا کہ وہ بڑے ٹھیکے دار ہیں۔ان کے پاس عمارتوں اور نہروں کا ٹھیکہ ہوتا ہے اور ہندوستان میں ان کا ایک بڑا بھاری کارخانہ بھی ہے۔آخر بہت سی باتوں کے بعد نتیجہ نکلا کہ سردار بلد یو سنگھ صاحب جو ہندوستان کے ڈیفنس منسٹر رہے ہیں ان کے والد نے سے بھجوایا تھا۔ٹاٹانگر کے پاس ان کا بڑا بھاری کارخانہ ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ وہ تو سکھ ہیں اور تم ہندو ہو۔تمہارا اُن کے ساتھ کیسے تعلق ہوا؟ اِس پر اُس نے کہا کہ میں اور وہ بچپن میں اکٹھے پڑھتے رہے ہیں اور ان کے ساتھ میری بڑی دوستی ہے۔اب انہوں نے اس دوستی کی وجہ سے ایک دفتر کا مجھے انچارج بنایا ہوا ہے اور مذہبی خیالات کا تبادلہ مجھ سے