خطبات محمود (جلد 37) — Page 28
خطبات محمود جلد نمبر 37 لکھا 28 $1956 خدمت کرنے والا ہے میں وہاں خط لکھ دیتا ہوں۔چنانچہ اُس نے لکھا ہے کہ میں نے انجمن اشاعتِ اسلام لاہور کو بھی ایک خط لکھا ہے۔میں نے مسجد لندن کے پتا پر بھی ایک خط ہے۔میں نے واشنگٹن امریکہ کے پتا پر بھی ایک خط لکھا ہے۔اب دیکھ لو! فلپائن میں ہمارا کوئی مبلغ نہیں گیا لیکن لوگوں میں آپ ہی آپ احمدیت کی طرف رغبت پیدا ہو رہی ہے۔یہ وہی گیند ہے جسے قادیان میں بیٹھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہٹ ماری تھی اور آج سے کوئی 69 سال پہلے ہٹ ماری تھی۔اب وہ گیند گھومتا گھومتا فلپائن جا پہنچا ہے اور وہاں سے ایک شخص خط لکھتا ہے کہ میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔پس میں نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ یہ دن تمہارے کام کے دن ہیں۔یورپ اور امریکہ اسلام کی اشاعت کے لیے مبلغ مانگ رہے ہیں۔اگر شاہدوں پر انحصار کیا جائے تو وہ شاید ہمیں چھپیں ہوں گے حالانکہ صرف امریکہ اس وقت دوسو مبلغ مانگ رہا ہے۔مگر کل وہ دو سو مبلغ نہیں مانگے گا بلکہ دو ہزار مبلغ مانگے گا۔پرسوں وہ دو ہزار مبلغ نہیں مانگے گا بلکہ دو لاکھ مبلغ مانگے گا۔اترسوں وہ دو لاکھ مبلغ نہیں مانگے گا بلکہ دو کروڑ مبلغ مانگے گا اور دو کروڑ شاہد تیار کرنے کے لیے دوسو سال چاہیں۔آخر تمہیں پرانے صحابہ والا طریق ہی اختیار کرنا پڑے گا کہ ادھر کسی نے کلمہ پڑھا اور احمدی ہوا اور اُدھر وہ مبلغ بن گیا۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کو دیکھ لو وہ شاہد نہیں تھے۔انہوں نے کلمہ ہی پڑھا تھا کہ اسلام کے مبلغ ہو گئے۔تم بھی وہی طریق اختیار کرو۔احمدیت سمجھ آتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب جو اردو میں ہیں پڑھنی شروع کر دو۔اگر تم انہیں غور سے پڑھو تو تھوڑے دنوں میں ہی تم ایسے مبلغ بن جاؤ گے کہ بڑے بڑے عالم بھی تمہارا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ہمارے ابتدائی مبلغ جنہوں نے ہندوستان اور اس کے باہر تبلیغ کا کام کیا ہے یا انہوں نے اسلام کی تائید میں کتابیں لکھی ہیں، انہوں نے عربی زبان کی باقاعدہ تحصیل نہیں کی تھی لیکن پھر بھی انہوں نے بڑا کام کیا۔مولوی محمد علی صاحب کو ہی لے لو انہوں نے عربی زبان کی با قاعدہ تحصیل نہیں کی تھی۔لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ ان کی کتابوں نے بڑا اثر پیدا کیا۔پھر خواجہ کمال الدین صاحب کو لے لو انہوں نے لندن میں مشن قائم کیا تھا حالانکہ ان لوگوں نے