خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 396

$1956 396 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ یارسول الله! آج فلاں وقت ایک شخص اس سوراخ سے مکان کے اندر جھانک رہا تھا۔آپ نے فرمایا عائشہ ! تم نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا؟ میں نیزہ مار کر اُس کی آنکھ پھوڑ دیتا۔6 کہتے ہیں ماں سے زیادہ چاہے کٹنی کہلائے۔میں ان اخبار والوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ آزادی پسند واقع ہوئے ہیں؟ کیا وہ آپ سے زیادہ خریت کا احساس رکھتے ہیں؟ پھر اگر نظارت امور عامہ کسی دشمن سلسلہ کو صدرانجمن احمدیہ کے مکانات میں یا میرے اور دوسرے احمدی افراد کے مکانات میں آنے سے روکے تو اس کا نام حکومت در حکومت کیسے ہو گیا؟ اگر کوئی کہے کہ نظارت امور عامہ نے یہ کہاں لکھا ہے کہ ربوہ سے مراد وہ حصہ شہر ہے جو اُس کے قبضہ میں ہے؟ تو میں کہوں گا کہ نظارت امور عامہ نے یہ کہاں اعلان کیا ہے کہ سرکاری مکانوں اور سڑکوں پر بھی نہ آؤ ؟ اگر نظارت امور عامہ نے خود اس کی وضاحت نہیں کی تو دوسرے لوگوں کو اتنا تو سمجھنا چاہیے کہ اگر کوئی شخص دعوی کرتا ہے تو وہ اپنی ملکیت اور تصرف کی چیز کے متعلق ہی کرتا ہے دوسرے کی ملکیتی چیزوں کے متعلق نہیں کرتا۔اگر کوئی شخص گورنمنٹ کی ملکیتی سڑکوں پر گزرنے سے کسی شخص کو روکتا ہے تو گورنمنٹ اُسے خود پکڑ لے گی۔کیا ان اخبارات کو آزادی ملک کا زیادہ پاس ہے اور گورنمنٹ کو نہیں ؟ گورنمنٹ کو ان اخبارات سے زیادہ ملک کی آزادی کا احساس ہے۔پس اگر کوئی احمدی کسی غیر احمدی کو یا اپنے کسی اندرونی یا بیرونی مخالف کو گورنمنٹ کی ملکیتی سڑکوں پر سے گزرنے سے منع کرے گا تو قانون کے ماتحت وہ مجرم ہو گا اور حکومت اُسے گرفتار کرے گی۔لیکن اپنے گھر سے کسی کو روکنے کا اختیار ہر شخص کو ہے چاہے کوئی سنی ہو یا شیعہ، احمدی ہو یا غیر احمدی اس میں کسی فرقہ کا سوال نہیں۔اسی طرح امور عامہ کو صدرانجمن احمد یہ اور احمدیوں کی زمینوں اور مکانات سے کسی اندرونی یا بیرونی دشمن کو روکنے کا پورا اختیار حاصل ہے کیونکہ احمدیوں نے انہیں اس کا اختیار دیا ہے۔تبھی تو صدر انجمن احمدیہ کا ادارہ دار القضاء ان کے مقدمات سنتا ہے اور جہاں تک ہو سکے نظکارت امور عامہ ان کی مدد کرتی ہے۔جب کسی کو پولیس تنگ کرتی یا اس پر ظلم کرتی ہے تو ی وہ نظارت امور عامہ کے پاس آ جاتا ہے۔اور اگر کوئی پوچھے کہ وہ یہاں کیوں آیا ہے؟ ہوا