خطبات محمود (جلد 37) — Page 370
$1956 370 خطبات محمود جلد نمبر 37 4 مارچ بعد اعلان۔گواہ شد محمد علی خان گواہ شد مرزا محمود احمد 4/3/14 - گواه شد مرزا یعقور بیگ 4/3/14۔گواہ شد محمد علی 4/3/14“ حضرت خلیفتہ ایح الاول نے یہ وصیت اپنی وفات سے صرف چند دن قبل لکھی تھی اور اسے مولوی محمد علی صاحب سے آپ نے تین دفعہ پڑھوایا تھا۔جب وہ ایک دفعہ پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا پھر پڑھو۔جب وہ پھر پڑھ چکے تو فرمایا پھر پڑھو۔پھر فرمایا اس پر کوئی اعتراض بیان کرو۔جب مولوی محمد علی صاحب نے کہا مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں تو آپ نے فرمایا پھر اس پر اپنے دستخط کر دو۔پھر آپ نے مجھے بھی دستخط کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔مرزا یعقوب بیگ صاحب اور محمد علی خان صاحب مرحوم کو بھی دستخط کرنے کے لیے کہا اور نواب محمد علی خاں صاحب مرحوم کو آپ نے اپنا وصی مقرر فرمایا۔اس وصیت میں صاف لکھا ہوا۔موجود ہے کہ۔آپ کے بعد دوسرا خلیفہ ہو۔لیکن اس کے باوجود سب سے پہلا کام مولوی محمد علی صاحب نے یہ کیا کہ آپ کی وفات سے تین دن پہلے ایک ٹریکٹ چھپوایا کہ آئندہ کوئی خلیفہ نہیں ہونا چاہیے اور اسے آپ کی زندگی میں چھپائے رکھا۔جب آپ فوت ہو گئے تو اُسے۔سارے پنجاب میں تقسیم کیا۔اس وصیت میں حضرت خلیفہ المسیح الاول لکھتے ہیں کہ ”ہمارے گھر میں مال نہیں جماعت کے دوستوں سے چندہ جمع کر کے میری اولاد کی پرورش کی جائے۔“ اور ان کے بیٹے یہ کہتے ہیں کہ ہمارے ابا کو خدا تعالیٰ پر اتنا تو کل تھا کہ آپ نے اپنی وفات کے وقت ہمیں خدا تعالیٰ کے سپرد کیا کسی بندہ کے سپرد نہیں کیا حالانکہ آپ نے انہیں صرف خدا تعالیٰ کے سپرد ہی نہیں کیا بلکہ یہ بھی فرمایا کہ جماعت کے دوستوں سے قرضہ لے کر ان کی پرورش کی جائے۔گویا آپ نے انہیں جماعت کے سپرد بھی کیا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ آپ نے اپنی اولاد کے لیے صرف دنیوی ترقیات کی دعائیں کی تھیں انہوں نے کبھی بھی نہیں کہا کہ میری اولاد کے لیے چندہ جمع کرنا یا قرضہ حسنہ لے کر اُن کی پرورش کرنا۔آپ اپنی اولاد کو اپنے پیچھے چھوڑ گئے لیکن اُن کے گزارہ کے متعلق آپ نے کوئی چی