خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 354

$1956 354 خطبات محمود جلد نمبر 37 میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ آجکل بڑا عمدہ موقع ہے۔مولوی ثناء اللہ صاحب آئے ہوئے ہیں آپ بھی چلیں اور اُن کی کچھ باتیں سن لیں۔وہ کہنے لگے میں نے پہلے تو انکار کیا مگر وہ اصرار کرتے چلے گئے اور آخر ان کے اصرار پر میں مولوی صاحب کے پاس چلا گیا۔مولوی صاحب آدھ گھنٹہ تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف دلیلیں دیتے رہے۔جب وہ خاموش ہوئے تو میں نے کہا مولوی صاحب! آپ بیکار گلا پھاڑ رہے ہیں۔آپ دلیلیں دے رہے ہیں اور میں نے مرزا صاحب کا منہ دیکھا ہوا ہے۔اُن کا منہ دیکھنے کے بعد میں اُن کو جھوٹا کہہ ہی نہیں سکتا۔آپ خواہ رات اور دن دلیلیں دیتے رہیں آپ کی ان دلیلوں کا اثر مجھ پر نہیں ہو سکتا۔کیونکہ آپ کی باتیں سب سنی سنائی ہیں اور میری دیکھی ہوئی ہیں۔میں نے جس شخص کے متعلق تجربہ کر لیا ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بول سکتا اگر اس کے متعلق آپ مانی لاکھ دلیلیں بھی دیں گے تو میں آپ کو ہی جھوٹا کہوں گا انہیں جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ یا يُّهَا الَّذِينَ امَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا اے مومنو! جب دشمن سے تمہارا مقابلہ ہو تو اگر تم نے دلیل سے مانا ہے تو تمہارے لیے گھبرانے کی کونسی بات ہے۔میں نے دیکھا ہے کئی لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر خواب دیکھ کر ایمان لائے تھے۔اب اگر کوئی شخص کسی مولوی کی تقریر سن کر آپ کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ خود اپنے عمل سے اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ وہ شیطان کا چیلا تھا جس نے اسے غلط راستہ پر چلا دیا۔اسی طرح ہماری جماعت میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو خواہیں دیکھ کر میری بیعت میں شامل ہوئے۔اب اگر کوئی شخص کسی نالائق بھکاری اور فقیر کی باتیں سن کر دھوکا میں آ جاتا ہے یا اس لیے دھوکا میں آ جاتا ہے کہ خلیفہ اول کا بیٹا ایسا کہہ رہا ہے تو ہر انسان اسے کہے گا کہ اے بیوقوف! کیا تجھے خدا نے نہیں کہا تھا کہ یہ شخص سچا ہے؟ اے بیوقوف ! اگر صداقت وہی ہے جس کا تو اب اظہار کر رہا ہے تو تو نے اپنی خواب کیوں شائع کرائی تھی؟ اے کذاب! جب تو نے مجھے یا الفضل والوں کو خواب بھجوائی تھی تو صرف اس لیے بھجوائی تھی کہ تجھے یقین تھا کی خواب تجھے خدا نے دکھلائی ہے۔اے کذاب! اب تو اپنے خدا کو جھوٹا کہتا سے