خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 353

$1956 353 خطبات محمود جلد نمبر 37 کوئی مقابلہ بڑا ہوتا ہے اور کوئی چھوٹا ہوتا ہے، کسی مقابلہ کے وقت انسان قائم رہتا ہے اور کسی مقابلہ کے وقت پہلے ہی اپنا دل چھوڑ بیٹھتا ہے۔مگر مومن کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جب وہ کسی جنگ میں جاتا ہے خواہ وہ ظاہری جنگ ہو یا علوم کی جنگ ہو تو محض خدا کے لیے جاتا ہے۔اور جب وہ خدا کے لیے جاتا ہے تو اپنا دل چھوڑتا نہیں بلکہ دشمن کے مقابلہ میں پوری مضبوطی سے قائم رہتا ہے۔چونکہ تمہارا طریق یہ ہے کہ تم بحث بھی خدا کے لیے کرتے ہو اور دلیل بازی وی بھی خدا کے لیے کرتے ہو، تبلیغ بھی خدا کے لیے کرتے ہو اس لیے تم مضبوطی سے اپنی جگہ پر قائم رہا کرو۔اور یاد رکھو کہ اگر تم خدا کے لیے اس تکلیف کو برداشت کرو گے تو خدا یہ کب برداشت کر سکتا ہے کہ تم اُس کی طرف سے بحث کرتے جاؤ اور وہ تمہیں ہرا دے۔آجکل ہماری جماعت میں منافقین کا جو فتنہ اُٹھا ہوا ہے یہ نصیحت اس پر بھی چسپاں کی ہوتی ہے اور ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے اس حکم کو اپنے سامنے رکھے کہ فَاثْبُتُوا یعنی اے مومنو! جب تم دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہو تو ثابت قدم رہو ڈگمگاؤ نہیں۔اس لیے کہ مومن کہتے ہی اُسے ہیں جس نے دلیل سے مانا ہو۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتا ہے کہ تو لوگوں سے کہہ دے کہ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي 2 میں نے اور میرے متبعین نے جن باتوں کو مانا ہے انہیں دلیل سے مانا ہے اور جس نے کسی بات کو دلیل سے مانا ہو اُسے کون ور غلا سکتا ہے۔مثلاً ایک اندھا سورج کو اس لیے مانتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ سورج موجود ہے یا وہ سورج کو اس لیے مانتا ہے کہ اُسے دھوپ محسوس ہوتی ہے اور اسے خیال آتا ہے کہ کوئی سورج بھی ہوگا۔لیکن بینا اس لیے مانتا ہے کہ اُس نے خود سورج کو دیکھا ہے۔اب خواہ کوئی کتنی بھی دلیلیں دے کہ سورج کوئی نہیں کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی آنکھوں والا شخص سورج کا انکار کر دے؟ ہمارے منشی اروڑے خاں صاحب جو کپورتھلہ کے رہنے والے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نہایت پرانے مخلصوں اور آپ کے عاشقوں میں سے تھے۔انہوں نے مجھے خود سنایا کہ ایک دفعہ ہمارے علاقہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب آ گئے۔میرے بعض دوست