خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 340

$1956 340 خطبات محمود جلد نمبر 37 یہ ٹھیک ہے لیکن انبیاء پہلے قریب کی پیشگوئیاں کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت عائشہ روایت فرماتی ہی ہیں کہ شروع شروع میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو وحی ہوتی تھی وہ اس طرح کی تھی کہ شام کو نازل ہوتی اور صبح پوری ہو جاتی یعنی جلدی سے پوری ہو جاتی۔پھر تذکرہ کو دیکھ لو اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کئی الہامات اس طرح کے درج ہیں کہ الہام ہوا اتنے روپے فلاں دوست نے بھیجے ہیں اور ڈاکخانہ میں گئے تو منی آرڈر آیا ہواتی ہوتا 2 پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے دیکھ میں تیری کتنی جلدی سنتا ہوں۔3 اب اگر ایسا شخص اس قسم کی باتیں پیش کرے کہ دو سال کے بعد یہ واقعہ ہو گا تو اُس کی بات مانی جاسکتی ہے۔اور اگر کوئی اعتراض کرے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ جب میری بعض پیشگوئیاں دومنٹ میں بھی پوری ہوئی ہیں، تین منٹ میں بھی پوری ہوئی ہیں، پانچ منٹ میں بھی پوری ہوئی ہیں اور تم نے انہیں دیکھ لیا ہے تو اس بات کو بھی انہی پر قیاس کر لو اور یقین کر لو کہ یہ بات بھی پوری ہو جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے علم پاکر پیشگوئی فرمائی تھی کہ آپ مکہ سے نکالے جائیں گے 4 اور اُس کے کئی سال بعد آپ مکہ سے نکالے گئے۔پھر آپ نے یہ پیشگوئی فرمائی کہ آپ مکہ واپس جائیں گے۔5 اب اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرتا کہ ہم اس ނ بات کو کیسے مان لیں؟ ہم اتنے سالوں کے بعد حجت پوری کرنے کے لیے آپ کو کہاں لائیں گے؟ تو آپ اسے یہ جواب دیتے کہ جب میری بعض پیشگوئیاں كَفَلَقِ الصُّبح یعنی سورج چڑھنے کی مانند پوری ہو گئی ہیں اور تم انہیں دیکھ چکے ہو تو تم اس کا بھی انہی پر قیاس کر لو اور یقین کرو کہ لمبے عرصہ والی پیشگوئی بھی پوری ہو جائے گی۔اب اگر کوئی شخص اس قسم کی پیشگوئیاں پیش کر کے ثابت کر دے کہ وہ پوری ہو گئی ہیں تو ہم اُس کی دو سال والی پیشگوئی بھی مان لیں گے۔لیکن اگر وہ ایسی پیشگوئیاں کیسے بغیر لمبے عرصہ والی پیشگوئی بیان کرتا ہے تو ہم کہیں گے قرآن کریم تو یہ کہتا ہے کہ کوئی جان نہیں جانتی کہ کل وہ کیا کمائے گی۔ہم تیری اس بات پر کیسے یقین کریں۔ہم تجھے دو سال کے بعد کہاں سے لائیں۔اس کے جواب میں یا تو اُسے یہ کہنا پڑے گا کہ یہ آیت جھوٹی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غیب کا علم