خطبات محمود (جلد 37) — Page 324
$1956 324 خطبات محمود جلد نمبر 37 چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلافٍ مَّهِيْنِ 3 کہ تو ہر قسم کھانے والے ذلیل انسان کی اطاعت نہ کر۔یعنی اگر کوئی شخص تمہارے پاس آ کر قسمیں کھاتا ہے تو تو اُس کی قسموں پر اعتبار کرتے ہوئے اس بات کو نہ مان لے بلکہ تو اُس کے اعمال کی طرف دیکھ۔اگر اُس کے اعمال ذلیل نظر آئیں تو اُس کی اطاعت و فرمانبرداری کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر کوئی شخص تمہارے پاس آ کر قسمیں کھاتا ہے اور اُس کے متعلق یہ معلوم ہو جائے کہ منہ اُس کے اعمال ناقص ہیں، وہ نماز، روزہ میں سُست ہے، نیکی اور تقوی سے عاری ہے تو تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا قسمیں کھانا اُس کی منافقت کی دلیل ہے۔اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شہادت سے اتنی بات تو ثابت ہو گئی اب باقی کے لیے مزید ثبوت کی ضرورت ہے۔حالانکہ اگر کسی کا تھوڑا سا ایمان بھی کمزور ثابت ہو جائے تو اُس کا باقی ایمان بھی کمزور ثابت ہو جاتا ہے۔اگر کسی کے اندر تھوڑی سی منافقت پائی جائے کی تو معلوم ہو جائے گا کہ اُس کے اندر بہت سی منافقت پائے جانے کا بھی امکان ہے۔اگر کسی کے اندر تھوڑا سا کفر ثابت ہو جائے تو اُس میں زیادہ کفر بھی پایا جا سکتا ہے۔مثلاً دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی سے پہلے بیت اللہ میں تین سو ساٹھ بت تھے۔اب اگر کوئی شخص کسی ایک بُت کی پرستش کرتے پکڑا جائے تو کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے تو صرف ایک بت کی پوجا کی ہے تین سو انسٹھ بجھوں کی پوچھا کرنے کا کوئی ثبوت نہیں؟ صاف بات ہے کہ جب اُس نے ایک بت کی پوجا کر لی تو اُس کے متعلق یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ باقی تین سو انسٹھ بُھوں کی بھی پوجا کرتا ہے۔اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ 4 اُن کے منہ سے بعض بغض کی باتیں نکلی ہیں جن سے اُن کی دشمنی ظاہر ہو گئی ہے۔وَمَا تُخْفِی صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ 5 اور جو کچھ اُن کے دلوں میں ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔گویا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کسی کی منافقت کی بعض باتیں معلوم ہو جائیں تو اُس کے متعلق یہ کہنا کہ اُس کی دوسری باتیں ثابت نہیں ہوئیں درست نہیں ہوتا۔اگر اس کی بعض منافقانہ باتیں ثابت ہو چکی ہیں تو ماننا پڑے گا کہ باقی باتیں بھی اُس کے اندر پائی جاتی ہیں۔