خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 305

$1956 305 خطبات محمود جلد نمبر 37 قسم کے لوگوں کو کیوں نہ کہہ دیا کہ تم منافق ہو اور تم نے ان کی زبان بندی کیوں نہ کی۔کیا تم نہیں جانتے کہ یہ یوم جمعہ تمہیں خدا تعالیٰ نے ہی دیا ہے۔کبھی وہ دن تھا کہ تم ماریں کھاتے تھے۔مگر آج ساری دنیا تمہاری طاقت کی معترف ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دہلی تشریف لے گئے۔وہاں ایک شخص مرزا حیرت آپ کے رشتہ داروں میں سے تھا۔وہ شخص بہت چالاک اور ہوشیار تھا۔اس نے بعد میں ایک اخبار بھی نکالا تھا۔اسے شرارت سوجھی اور وہ انسپکٹر پولیس بن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آ گیا اور کہنے لگا میں گورنمنٹ کی طرف سے یہ پوچھنے آیا ہوں کہ آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟ چنانچہ بعض احمدی اُس کی اس شرارت کی وجہ سے ڈر بھی گئے۔لیکن بعد میں پتا لگ گیا کہ اس نے فریب کیا ہے اور بعض احمدیوں نے اسے ڈانٹا بھی۔اس کے بعد ندوہ کے ایک پروفیسر نے جو پٹھان تھا تقریر کی اور کہا کہ مرزا مسیح موعود بنا پھرتا ہے۔وہ دتی گیا تو مرزا حیرت انسپکٹر پولیس بن کر اس کے پاس چلا گیا۔وہ کوٹھے پر بیٹھا ہوا تھا (حالانکہ یہ بات بالکل جھوٹ تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نیچے دالان میں بیٹھے ہوئے تھے) ڈر کے مارے جلدی سے نیچے اُترا تو سیڑھی سے پاؤں پھسل گیا اور منہ کے بل زمین پر آ گرا۔اللہ تعالیٰ کو اس کی کذب بیانی پر غیرت آئی۔وہ شخص رات کو اپنے مکان کی چھت پر سویا ہوا تھا کہ سوتے سوتے اُس کا دماغ خراب ہوا۔وہ نیند میں ہی اُٹھا اور کو ٹھے سے زمین پر گر کر ہلاک ہو گیا۔غرض ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے۔اگر وہ فوری طور پر کسی کی خبر لے سکتا ہے تو دس سال بعد بھی اس کی خبر لے سکتا ہے۔عبد اللہ آتھم کو ہی دیکھ لو۔جب اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دجال کہا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے فرمایا کہ تم نے خدا تعالیٰ کے ایک راستباز کو دجال کہا ہے۔تم یہ نہ سمجھو کہ وہ اس وقت فوت ہو چکے ہیں۔بلکہ یاد رکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خدا اب بھی زندہ ہے اور وہ تمہیں اس گستاخی کی وجہ سے کچل کر رکھ دے گا تو اس پر عبداللہ آتھم سخت گھبرایا اور اُس نے کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا میری توبہ میں نے اس قسم کی کوئی گستاخی نہیں کی۔اب دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فوت ہوئے