خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 288

$1956 288 خطبات محمود جلد نمبر 37 ایک ہفتہ بعد ٹھیک اسی طرح میں کدال ہاتھ میں لے کر مسجد کی صفائی کر رہا تھا کہ میں نے تھکان محسوس کی اور ایک درخت کے نیچے چلا گیا۔ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ سامنے سے مولوی نذیر احمد صاحب علی آگئے اور انہوں نے مجھے سے رہائش وغیرہ کے لیے جگہ دریافت کی۔میں نے انہیں دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہی وہ شخص تھے جو مجھے خواب میں دکھائی دیئے تھے۔چنانچہ میں نے انہیں اپنا گھر رہائش کے لیے پیش کر دیا۔اس کے بعد میں نے اور لوگوں کو بتایا کہ میں نے جو خواب دیکھا تھا وہ پورا ہو گیا ہے اور اب وہی دوست جنہیں میں نے رویا میں دیکھا تھا میرے گھر میں رہتے ہیں۔چنانچہ ان کی تبلیغ پر اکثر لوگوں نے احمدیت قبول کر لی۔غرض وہ ممالک جہاں کسی زمانہ میں عیسائیت غلبہ پا رہی تھی اب وہاں خوابوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو کھڑا کر رہا ہے جو سلسلہ کے لیے بڑی بڑی قربانی کرنے کے لیے تیار کی ہو جاتے ہیں۔چنانچہ ان خوابیں دیکھنے والوں میں سے بعض ایسے ہیں جو ہمارے سلسلہ کے مستقل مبلغ ہیں۔اسی طرح ایک اور افریقن نوجوان کا میں نے ذکر کیا تھا کہ اُس نے یہ الفاظ کہے تھے کہ یہ تو ممکن ہے کہ دریا اپنا رستہ چھوڑ دے اور جس طرف بہہ رہا ہے اُس طرف کی بجائے اُلٹا بہنا شروع ہو جائے مگر یہ ممکن نہیں کہ میں احمدی ہوسکوں۔مگر پھر وہی شخص احمدی ہوا اور و اس نے ایسا اخلاص دکھایا کہ جب ایک عیسائی اخبار نے اعلان کیا کہ ہم تمہارا اخبار اپنے پریس میں چھاپنے کے لیے تیار نہیں۔اگر تمہارے خدا میں ہمارے خدا سے بڑھ کر طاقت ہے تو وہ اپنی طاقت کا کوئی کرشمہ دکھائے۔تو باوجود اس کے کہ وہ پانچ سو پونڈ پہلے دے چکا تھا اس چیلنج پر اُس کی غیرت بھڑک اُٹھی اور اس نے ہمارے مبلغ سے کہا کہ آپ یہیں بیٹھیں میں ابھی واپس آتا ہوں۔چنانچہ وہ اپنے گاؤں میں گیا اور اسی وقت پانچ سو پونڈ لا کر اس نے دے دیا۔اب ہمارے مبلغ کے تازہ خط سے معلوم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے زندہ ہونے کا ایک اور ثبوت بھی دے دیا اور وہ یہ کہ وہی پر لیس والا جس نے ہمارے مبلغ کو لکھا تھا کہ ہم تمہارا اخبار اپنے پریس میں چھاپنے کے لیے تیار نہیں۔اسی پریس والے کا ہمارے مبلغ کو خط