خطبات محمود (جلد 37) — Page 285
خطبات محمود جلد نمبر 37 285 $1956 جائے گا اور وہ چاہے گا کہ میں بھی اس میں حصہ لے کر اپنا نام ایک مستقل یادگار کے طور پر ی محفوظ کروا دوں۔پس انفرادی طور پر دوسروں سے چندہ لینے کی کوشش کرنی چاہیے اور انہیں تحریص دلانی چاہیے کہ اگر تم معقول چندہ دو گے تو ہم مسجد بنوانے والوں سے لڑ جھگڑ کر تمہارا نام بھی مسجد پر لکھوانے کی کوشش کریں گے۔پھر جب تم اُسے دکھاؤ گے کہ فلاں مسجد پر اتنے لوگوں کا نام لکھا ہوا ہے اگر تم روپیہ دو تو تمہارا نام بھی لکھوا دیا جائے گا تو وہ تمہیں ہزار روپیہ بھی آسانی کے ساتھ دینے کے لیے تیار ہو جائے گا کیونکہ لوگوں کے دلوں میں ایک شوق اور ایمان پایا جاتا ہے۔سستی صرف ہماری جماعت کے افراد کی ہے کہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور انہیں ایسے ثواب میں حصہ لینے کی تحریک نہیں کرتے۔ہماری جماعت کے ایک بڑے تاجر ہیں۔وہ 9 بھائی تھے جن میں سے سات آٹھ احمدی تھے اور ایک غیر احمدی تھے۔ان کے غیر احمدی بھائی ہمیشہ مجھے قادیان میں آکر ملا کرتے تھے۔ایک دفعہ قادیان میں وہ مسجد مبارک میں مجھے آ کر ملے اور کہنے لگے کہ بڑی مصیبت ہے مبائعین اور غیر مبائعین کا آپس میں جھگڑا شروع ہے اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ انسان کدھر جائے۔میں نے کہا آپ کے لیے تو بڑی آسانی ہے۔مولوی محمد علی صاحب نے ایک رستہ کھول دیا ہے آپ شوق سے جائیں اور اُن کی بیعت کر لیں۔آخر آپ کو کفر و اسلام اور نماز اور جنازہ وغیرہ کے مسائل کی وجہ سے ہی دقت پیش آ سکتی ہے سو یہ دِقت مولوی محمد علی صاحب نے دور کر دی ہے۔اب مصیبت کس بات کی ہے۔آپ جائیں اور اُن کی بیعت کر لیں۔اس پر وہ ہنس کر کہنے لگے یہی تو مصیبت ہے ”ادھواڑے وچہ نہیں رہیا جاندا۔یعنی آدھے راہ میں کھڑے ہو جانے کو جی نہیں چاہتا۔میں نے کہا جب آپ مانتے ہیں کہ وہ آدھا راستہ ہے تو سیدھی طرح اصل مقام پر ہی کیوں نہیں پہنچ جاتے۔تو لوگوں کے دل ہمارے سلسلہ کی صداقت کو تسلیم کرتے ہیں صرف ہماری جماعت کے افراد کی یہ سستی ہے کہ وہ اس جذبہ سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کرتے۔آج ہی ایک غیر احمدی کا خط آیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرے لیے پھانسی کی سزا تجویز ہوئی ہے اور ایک گڑھا کھودا گیا ہے جس میں میں