خطبات محمود (جلد 37) — Page 240
خطبات محمود جلد نمبر 37 240 $1956 چنانچہ جب ہم کراچی پہنچے تو گورنمنٹ نے ہمیں فوراً اجازت دے دی اور کہہ دیا کہ بیشک موٹر لے جاؤ کیونکہ یہ ہمارے روپیہ سے نہیں بلکہ بیرونی ملک کے روپیہ سے خریدی گئی ہے۔اسی طرح اسٹیٹ بنک سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ باہر سے جو روپیہ آپ کو ملا ہے وہ بیشک آپ بنک میں جمع کرا دیں۔اگر باہر کی جماعتیں آپ کو چندہ یا امداد کے طور پر کچھ روپیہ بھیجتی ہیں تو وہ آپ کا مال ہے ہمارا اُس پر کوئی حق نہیں۔غرض اس طرح میں نے ان کو روپیہ اکٹھا کر کے دیا تھا۔وہ بھی اگر چاہتے تو ایسا کر سکتے تھے مگر عین اُس وقت جب چھ سو پونڈ ماہوار کے حساب سے سات ہزار دو سو پونڈ کی سال بھر کے لیے ضرورت تھی انہوں نے آکر کہہ دیا کہ ہمارے پاس اب صرف پینتیس پونڈ باقی ہیں۔اس کا مجھے ایسا صدمہ ہوا کہ پھر مجھ پر بیماری کا شدید حملہ ہو گیا۔پھر انگریزی میں ایک ضرب المثل ہے کہ مصیبتیں ہمیشہ اکٹھی آتی ہیں اکیلی نہیں آتیں۔1 اس کے دوسرے ہی دن میرے ایک دانت میں شدید درد شروع ہو گیا اور ایک عصبہ کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ گل گیا ہے۔آخر راولپنڈی سے ڈاکٹر بلوائے گئے۔خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمارے آدمی ہر جگہ موجود ہیں۔اسی طرح لاہور فون کیا گیا اور وہاں سے ڈاکٹر عبدالحق صاحب آ گئے اور وہ دانت نکال دیا گیا۔اس کی درد بھی تین چار دن رہی اور چونکہ میں پہلے ہی بیمار تھا یہ تکلیف بھی لمبی ہو گئی ورنہ جلدی آرام آ جاتا۔اب ڈاکٹری لحاظ سے تو زخم اچھا ہو گیا ہے مگر مجھے اب بھی کبھی کبھی ٹھیس پڑتی ہے مگر اُس جگہ نہیں جہاں سے دانت نکلوایا گیا ہے بلکہ اس سے اوپر کے تندرست دانت میں ٹیس محسوس ہوتی ہے۔ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ریفرڈ پین (REFERRED PAIN) ہے یعنی درد تو اُسی عصبہ میں ہوتی ہے جو ماؤف تھا ہی مگر محسوس دوسری جگہ ہوتی ہے۔بہر حال یہ ایک ایسی مصیبت آئی کہ جس کی وجہ سے وہ سارا فائدہ جو اب تک حاصل ہوا تھا جاتا رہا اور پھر نئے سرے سے طبیعت کو بحال کرنا پڑا۔بیشک دانت کی تکلیف ایک زائد تکلیف تھی جو کسی کے اختیار میں نہیں تھی مگر اس بیماری کا اصل محرک تحریک جدید کے افسروں کی نالائقی تھی۔وہ روپیہ خرچ کرتے چلے گئے اور انہوں نے سمجھا کہ خلیفہ بے ایمان ہے۔مبلغ مریں یا جیئیں اور مشن خواہ سارے کے سارے بند ہو جائیں