خطبات محمود (جلد 37) — Page 225
$1956 225 خطبات محمود جلد نمبر 37 مُؤْمِنٌ فَأُولَبِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُورًا 3 جو شخص مرنے کے بعد کی زندگی کا ارادہ کرتا ہے یعنی اپنے دل میں اُس زندگی کی خواہش رکھتا ہے وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا اور پھر اس کے مطابق اس کے لیے کوشش اور تیاری بھی کرتا ہے اُس کی کوشش رائیگاں نہیں جائے گی بلکہ وہ قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی۔اب اگر سعی کے معنے دوڑنے کے لیے جائیں تو اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ جو شخص آخرت کے لیے دوڑتا ہے حالانکہ آخرت کے لیے۔دوڑنے کا دنیا میں کوئی طریق ہے ہی نہیں۔اسی طرح فَاسْعَوْا إِلى ذِكْرِ اللہ کے یہ نہ نہیں کہ ذکر الہی کی طرف دوڑ کر آؤ بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ تم ذکر الہی کے لیے اپنے نفس کو تیار کرو اور ذکر الہی کی محبت اور اُس کا شوق اپنے دلوں میں پیدا کرو۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرو، کپڑے بدلو اور وضو کر کے مسجد میں آؤ 4 اور یہ جو فرمایا کہ اِذَا نُودِی یہ ہے تو ماضی کا صیغہ اور اس کے معنے یہ ہیں کہ بلایا جائے۔مگر قرآن کریم میں ماضی کا صیغہ قطعی فیصلہ پر دلالت کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔چنانچہ بچوں کو دودھ پلانے کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ تمہارے لیے یہ جائز ہے کہ تم اپنے بچوں کو کسی دوسری عورت سے دودھ پلوا لو مگر اس شرط کے ساتھ کہ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّا أَتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ 5 وہ معاوضہ جو تم نے دینا کیا ہے مناسب طور پر ادا کر دو۔اس جگہ ایم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے لفظی معنے ہیں " تم نے دے دیا ہے یا " تم دے چکے ہو، لیکن اس صورت میں اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ ”جب تم دے دو جو تم دے چکے ہو اور ظاہر ہے کہ یہ ایک بے معنی فقرہ بن جاتا ہے۔پس اسیتم کو ماضی کا صیغہ ہے مگر مراد یہ ہے کہ جو تم دینے کا فیصلہ کر چکے ہو۔ورنہ جو ایک دفعہ دے چکے اُسے دوبارہ دینے کا کیا مطلب ہے۔مراد یہی ہے کہ اگر تم اپنے بچوں کو کسی دوسری عورت۔پلوانا چاہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔بشرطیکہ وہ معاوضہ جو تم نے اُسے دینے کا فیصلہ کیا ہے وہ اُسے مناسب طور پر ادا کر دو۔اور اگر اس کے یہ معنے نہ کیے جائیں تو آیت کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ پہلا روپیہ جو تم اُسے دے چکے ہو وہ اُسے دے دو۔یعنی پہلے اگر سو روپیہ دے چکے تھے تو پھر اور سودے دو۔اس طرح تو ایک غیر متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو ختم ہونے میں ہی دودھ