خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 172

$1956 172 خطبات محمود جلد نمبر 37 خواب دیکھنے کے بعد انسان کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے اور اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اور زیادہ دعائیں کرے تاکہ خدا تعالیٰ اس کی خواب کو سچا کر دے۔دعاؤں میں کمزوری دکھانے کے تو یہ معنے ہیں کہ وہ اپنی خواب یا خدا تعالیٰ کے وعدہ کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتا ہے۔اگر وہ دعائیں کرنے لگ جائے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ اپنی خواب اور خدا تعالیٰ کے وعدہ کو سچا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پس جن دوستوں کو اچھی خوابیں آتی ہیں انہیں دعاؤں سے غافل نہیں ہو جانا چاہیے۔کیونکہ غفلت اللہ تعالیٰ کے فضل میں کمی کر دیتی ہے۔بہر حال ان دنوں بہت سے دوستوں نے اچھی خواہیں دیکھی ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ الْمُؤْمِنُ يَرَى اَوْ يُرى لَهُ 1 مومن یا تو خود اچھی خواہیں دیکھتا ہے یا اُس کے متعلق دوسروں کو اچھی خواہیں دکھائی جاتی ہیں۔اور یہ اُس کے ایمان کی تقویت کا موجب ہوتی ہیں۔نومبر کے آخر میں جو دعاؤں کی تحریک کی گئی تھی اُس کا یہ نتیجہ نکلا کہ دوستوں کی خوابوں کے ساتھ ساتھ مجھے بھی خدا تعالیٰ نے بشارتیں دینی شروع کیں۔اور یہ صاف بات ہے کہ دوسرے ص کی بشارتوں اور اپنی بشارتوں میں فرق ہوتا ہے۔اپنی بشارتیں براہِ راست حاصل ہوتی ہیں اور وہ ایمان کی تقویت کا زیادہ موجب ہوتی ہیں۔دوسرے کی بشارتوں کے متعلق دل میں شبہ رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بلی کو چھیچھڑوں کی خوابوں والا معاملہ ہو۔اُن کی یہ خواہش ہو کہ میں اچھا ہو جاؤں اور وہ اس کے مطابق خوابیں دیکھنے لگ گئے ہوں۔پس براہِ راست بشارتیں ملنے کی وجہ سے میرے دل کو بہت تقویت حاصل ہوتی تھی لیکن کچھ دنوں سے پھر طبیعت خراب ہو رہی ہے۔دوستوں نے مجھے شوری میں کام کرتے دیکھا تو انہوں نے خیال کر لیا کہ اب میں اچھا ہو گیا ہوں اور اپنا نفس بھی کسی حد تک کام کرنے کی وجہ سے مغرور ہوا اور اس سے دعاؤں میں سُستی پیدا ہوئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ خود مجھے براہ راست جو بشارتیں مل رہی تھیں اُن میں بھی کمی آگئی اور اس کے نتیجہ میں بھی طبیعت میں افسردگی پیدا ہو گئی۔درحقیقت شورای کے بعد سے طبیعت بہت زیادہ خراب ہے۔پھر سفر پر گئے اور ربوہ سے باہر تین چار دن رہے۔اُس وقت بھی طبیعت خراب رہی اور پھر یہ خرابی بڑھتی چلی گئی اور آج وہ اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔آج میرا ہر عضو کام کرنے سے جواب دینے لگ گیا تھا، نظر کمزور ہو گئی تھی،