خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 167

$1956 167 خطبات محمود جلد نمبر 37 باتوں باتوں میں بتایا کہ مجھے اسلام کی کتابیں پڑھنے کا بڑا شوق ہے اور آپ کا لٹریچر بھی میں نے پڑھا ہے۔اسی طرح تصوف کی طرف مجھے رغبت ہے اور فارسی اور عربی کی قابلیت جس قدر میں پیدا کر سکا ہوں اس کے مطابق تصوف کی کتابوں کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔غرض بڑے بڑے ہندوؤں میں بھی خدا تعالیٰ کا خوف پایا جاتا ہے۔مدراس کے مشہور کانگرسی لیڈر شری راج گوپال اچاریہ کے متعلق میں نے دیکھا ہے کہ اُن میں بھی خدا تعالیٰ کا خوف پایا جاتا ہے اور اُن کا دل چاہتا ہے کہ ہندوستان میں عدل و انصاف قائم رہے اور مسلمانوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔لیکن ہم ان لوگوں تک اسلام کی تعلیم مناسب طریق سے نہیں پہنچاتے۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ حکومت افغانستان نے ہمارے 13 احمدیوں کو چھوڑ دیا۔جو دوست شہید کر دیئے گئے ہیں ان کی شہادت میں بھی گورنمنٹ کا کوئی دخل نہیں۔لوگ انہیں زبردستی قیدخانہ سے نکال کر لے گئے اور شہید کر دیا۔بہرحال دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس ملک میں احمدیوں کے لیے امن کی صورت پیدا کرے اور جن لوگوں نے وحشیانہ نمونہ دکھایا ہے انہیں ہدایت دے۔آخر وہ بھی ہمارے بھائی ہیں اور خدا تعالیٰ چاہے تو وہ انہیں ہدایت دے سکتا ہے۔ابوسفیان کو ہی دیکھ لو وہ اسلام کا کتنا مخالف تھا۔لیکن خدا تعالیٰ نے اسے ہدایت دے دی اور اُس نے اسلام کو قبول کر لیا۔پھر یہ تو پہلے سے مسلمان کہلاتے ہیں ان کو ہدایت دینا اس کے لیے کونسا مشکل امر ہے۔پس دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ انہیں احمدیت کے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی وحشت کو دور کرے۔اسی طرح حکومت افغانستان کے لیے بھی دعائیں کرو۔آخر اس نے بھی بعض مواقع پر انصاف کا نمونہ دکھایا ہے۔جب صاحبزادہ عبداللطیف ہے۔جب صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کیے گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ امیر حبیب اللہ خاں سے پہلا پتھر چلانے کے لیے کہا گیا۔اس پر اُس نے پتھر مارنے سے انکار کر دیا۔گویا اُس نے آخری وقت تک اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی۔اس کے معنے یہ ہیں کہ اُس کے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف پایا جاتا تھا۔ہم چاہتے ہیں کہ ان لوگوں میں خدا تعالیٰ کا مزید خوف پیدا ہو