خطبات محمود (جلد 37) — Page 134
$1956 134 خطبات محمود جلد نمبر 37 تاکہ وہاں عیسائیوں کے مرکز میں چلا جائے۔اُس کی ماں کی آنکھ کھلی اور اُس نے چار پائی ہی خالی دیکھی تو وہ رات کے اندھیرے میں اکیلی بٹالہ کی طرف دوڑ پڑی اور کئی میل کے فاصلہ سے اُسے پکڑ کر لے آئی۔پھر وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور روتی ہوئی کہنے لگی حضور! میرا یہ اکلوتا بیٹا ہے۔اگر یہ مرجائے تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔لیکن میری صرف اتنی خواہش ہے کہ جس طرح بھی ہو یہ مرنے سے پہلے دوبارہ کلمہ پڑھ لے۔اللہ تعالیٰ نے اُس عورت کے اخلاص کو دیکھ کر یہ فضل کیا کہ دو تین دن کے بعد اُس نے اسلام قبول کر لیا اور پھر وہ فوت ہو گیا۔پس اگر باطل کے ساتھ محبت کرنے والے بھی بڑی بڑی قربانیاں کر سکتے ہیں تو دین کے ساتھ سچی محبت رکھنے والے کسی قسم کی قربانی سے کس طرح دریغ کر سکتے ہیں۔بہر حال دوستوں نے جو باتیں لکھی ہیں اُن میں سے بعض بہت اچھی ہیں۔مثلاً یہ کہ واقفین کو کوئی نہ کوئی پیشہ سکھانا چاہیے اور پھر یہ کہ جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ واقفین کا اعزاز کریں۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے خود واقفین کے اندر انتظامی قابلیت ہونی چاہیے۔اگر ان میں انتظامی قابلیت ہو گی تو انہیں مرکز میں ذمہ داری کے عہدے مل سکیں گے۔انگریزی دانوں سے ہماری کوئی دوستی نہیں اور نہ عربی والوں سے ہماری کوئی دشمنی ہے۔اگر واقفین انتظامی قابلیت پیدا کر لیں تو در حقیقت مرکز کے سارے اہم عہدے اُنہی کے لیے ہیں اور وہی اس کے اصل حق دار ہیں۔پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ لوگ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو سچا ایمان بخشے، آپ کے اندر دین کی خدمت کی خواہش پیدا کرے تا آپ اپنی جان اور مال سب کچھ اپنے خدا کے سامنے پیش کر دیں۔اور جب مریں تو ایسی حالت میں مریں کہ آپ کے دلوں میں یہ حسرت نہ ہو کہ کاش! ہم دین کی خدمت کرتے۔اللہ تعالیٰ ہماری کوتاہیوں کو دور فرمائے اور ہماری خدمات کو قبول کرے اور حضرت ابوبکر کی طرح ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ تھوڑا یا بہت جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے وہ ہم اُس کی راہ میں قربان کر دیں۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مالی قربانی کا مطالبہ کیا تو حضرت ابوبکر