خطبات محمود (جلد 36) — Page 80
$1955 80 خطبات محمود جلد نمبر 36 سلوک انصاف اور رحم والا ہو۔اس سلسلہ میں میں نے بتایا تھا کہ رسول کریم ہے تو اس صفت کے ظاہر کرنے میں سب سے بالا تھے۔لیکن آپ پر بھی اعتراض ہوئے۔لیکن وہ اعتراض اس قسم کے نہیں تھے جو معقول ہوں بلکہ غیر معقول اعتراض تھے جو اپنی ذات میں اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ یہ چسپاں نہیں ہوتے۔میں آج اس سلسلہ میں ایک مثال بیان کرتا ہوں۔رسول کریم ﷺ کا سب سے بڑا دشمن ابو سفیان تھا۔جب آپ نے ہر قل کو خط لکھا تو ہر قل بادشاہ نے کہا کہ دیکھو جس شخص نے خط لکھا ہے اُس کی قوم کے کئی لوگ اس ملک میں ہیں۔تو معلوم ہوا کہ ابوسفیان ان دنوں اپنے قافلہ سمیت تجارت کے لیے آیا ہوا ہے۔جب اُس کو پتا لگا تو اُس نے ابوسفیان اور اُس کے ساتھیوں کو بلایا اور ابو سفیان کو آگے کھڑا کیا اور اس کے ساتھیوں کو پیچھے اور کہا کہ دیکھو میں بادشاہ ہوں میرے سامنے جھوٹ بولنا بڑا سخت سزا کا مستوجب بنا دیتا ہے۔میں اس سے سوال کروں گا اگر یہ کسی وقت جھوٹ بولے تو فوراً مجھے بتادینا کہ جھوٹ بولا ہے۔ابوسفیان کہتا ہے کہ اُس نے پہلے مجھ سے یہ سوال کیا کہ بتاؤ کہ نبوت کے دعوئی سے پہلے اس شخص کے اخلاق کیسے تھے؟ تو میں نے کہا کہ بڑے اچھے تھے۔تو اُس نے کہا میں نے یہ سوال اس لئے کیا تھا کہ نبوت کے دعوی کے بعد تو تمہاری دشمنی ہوگئی۔پس دعوی سے پہلے کی گواہی ہی گواہی ہو سکتی ہے۔بعد کی گواہی تو دشمنی کے ماتحت ہوگی۔پھر اُس نے پوچھا کہ جب اس نے دعوی کیا تو اس دعوی کرنے کے بعد تم نے اس کا رویہ کیسا دیکھا ؟ کیا اس نے کبھی تم سے جھوٹ بولا ؟ تو وہ کہنے لگا کہ نہیں اس کے ساتھ ہمارے کئی معاہدے ہوئے ہیں کبھی اس نے وعدہ شکنی نہیں کی۔لڑائیوں کے بعد جب بھی معاہدہ ہوا اس نے اُسے پورا کیا ہے۔تو آب گویا یہ ایک شدید ترین دشمن کی گواہی ہے جو درحقیقت انعامات کا مستحق نہیں ہوتا بلکہ سزا کا مستحق ہوتا ہے۔اس لئے اس کو شکوہ زیادہ پیدا ہوسکتا ہے۔اور بہت ممکن تھا کہ وہ اعتراض کرتا بلکہ وہ خود بھی کہتا ہے کہ میرے دل میں خیال آیا کہ میں جھوٹ بول کر اعتراض کروں۔مگر چونکہ بادشاہ نے میرے پیچھے ساتھی کھڑے کئے ہوئے تھے میں ڈرا کہ اگر میں نے جھوٹ بولا تو انہوں نے بول پڑنا ہے کہ اس نے جھوٹ بولا ہے 3۔اسی طرح آپ نے ایک دفعہ اموال غنیمت تقسیم کئے تو ایک شخص بولا تِلْكَ قِسْمَةٌ