خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 290

خطبات محمود جلد نمبر 36 290 $1955 دو بیویاں ہیں۔مگر مجھے یہ علم نہیں کہ آیا اُن کی کوئی اولا د بھی ہے یا نہیں۔پندرہ سولہ دن کی بات ہے میں عصر کی نماز پڑھا کر کچھ دیر کے لیے مسجد میں بیٹھ گیا۔تو میں نے ایک دوست چودھری محمد عبد اللہ صاحب کو دیکھا جو قلعہ صو با سنگھ کے رہنے والے ہیں اور دا تا زید کا کے حلقہ کی جماعت کے نائب امیر ہیں۔میں نے اُن کو آگے بلایا اور کہا کہ ضلع سیالکوٹ کی جماعت کچھ سُست رہنے لگ گئی ہے۔انہوں نے کہا نہیں خدا تعالیٰ کے فضل سے ضلع سیالکوٹ کی جماعت نے سیلاب کے دنوں میں بہت اچھا کام کیا ہے۔پھر میں نے کہا شاید جماعت کے لوگ چندہ کی طرف کم توجہ دینے لگے ہیں۔انہوں نے کہا بات یہ ہے کہ سیلاب کی وجہ سے کچھ وقت تک چندے آہی نہیں سکے تھے۔اب میں دو ہزار ( یا شاید انہوں نے تین ہزار کہا) روپیہ اپنے ساتھ لایا ہوں اور وہ میں کل خزانہ میں جمع کرادوں گا۔میں نے سمجھا کہ یہ بھی دا تا زید کا کے حلقہ کے رہنے والے ہیں اس لیے میں انہیں بھی اپنی خواب سنا دوں۔چنانچہ میں نے اُن کو یہ خواب سنائی اور اُن سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو اس کے متعلق کچھ علم ہے کہ سید نذیر حسین صاحب کی دو بیویاں تھیں یا ایک بیوی تھی اور پھر کیا اُن کی دوسری بیوی سے کوئی اولاد ہے؟ اُس وقت بعض دوسرے دوست بھی پاس بیٹھے ہوئے تھے۔غالبا وہ پندرہ بیس کے قریب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کا تو مجھے علم نہیں کہ آیا سید نذیر حسین صاحب کی دو بیویاں تھیں یا ایک بیوی تھی۔ہاں ! اتنا ضرور علم ہے کہ اُن کا ایک بیٹا موجود ہے لیکن وہ کس بیوی سے ہے اس کا مجھے علم نہیں۔اتفاق کی بات ہے کہ آج ڈاک آئی تو اس میں ایک خط چودھری محمد عبداللہ صاحب کا بھی نکل آیا۔انہوں نے لکھا ہے کہ پچھلے دنوں میں ربوہ گیا تھا تو حضور نے ایک دن مسجد میں مجھ سے دریافت فرمایا تھا کہ کیا سید نذیرحسین صاحب مرحوم کی دو بیویاں تھیں یا ایک؟ اور پھر ان کا جو بیٹا موجود ہے وہ کس بیوی سے ہے؟ میں نے کہا تھا کہ مجھے اس کا علم نہیں۔میں واپس آیا تو میں نے سید نذیر حسین صاحب مرحوم کے بیٹے کو سارا واقعہ سنایا۔اُس نے کہا یہ درست ہے کہ میرے والد سید نذیرحسین صاحب مرحوم کی دو بیویاں تھیں اور میں دوسری بیوی سے ہی ہوں۔اُن کی پہلی بیوی جو بدوملہی کی تھی جس سے اُن کی کچھ نا چاتی ہو گئی تھی اور انہوں نے اُسے طلاق دے دی تھی۔اس کے بعد انہوں نے میری والدہ سے شادی کی اور ان سے میں پیدا ہوا۔