خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 210

$1955 210 خطبات محمود جلد نمبر 36 کرتا ہے وہی دنیا کا سردار ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہاما فرمایا تھا کہ الْاَرْضُ وَالسَّمَاءُ مَعَكَ كَمَا هُوَ مَعِى 1 یعنی زمین اور آسمان اس طرح کی تمہارے ساتھ ہیں جس طرح وہ میرے ساتھ ہیں۔اسی طرح اگر تم دعائیں کرو گے تو تمہیں بھی آسمان اور زمین مل جائیں گے۔جو کتا ہیں تم سکول میں پڑھتے ہو ان سے آسمان اور زمین نہیں مل سکتے۔صرف نحو اور منطق پڑھنے سے تمہیں آسمان اور زمین نہیں ملیں گے۔ہاں اگر تم دعائیں کرو گے اور خدا تعالیٰ کی طرف جھکو گے تو تمہیں آسمان اور زمین مل جائیں گے۔اور اگر ان دعاؤں میں تم مجھے بھی شامل کرو گے تو خدا تعالیٰ کہے گا کہ یہ لوگ اب کام کرنا چاہتے ہیں۔کیونکہ اگر کوئی شخص کام لینے والے کے لیے دعا کرتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ خود کام کرنا چاہتا ہے۔تم دیکھ لو میٹ (MATE) مزدوروں کی نگرانی کرتا ہے۔مزدور چاہتا ہے کہ میٹ کہیں چلا جائے تا وہ آرام کر سکے۔لیکن اگر مزدور خود میٹ کو آواز دیتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ کام کے لیے تیار ہے۔پس تم میں سے ہر ایک کو ایسے حالات پیدا کرنے چاہئیں کہ وہ کام کرے۔یادرکھو ایک ایک مبلغ کے ذریعہ سینکڑوں اور ہزاروں لوگ احمدیت میں داخل ہونے چاہئیں۔لیکن اس وقت کئی مبلغ ایسے ہیں جو نہایت بے حیا منہ سے کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے سال میں دو افراد احمدیت میں داخل ہوئے۔اگر سال میں ایک مبلغ کے ذریعہ دو افراد ہی احمدیت میں داخل ہوں تو کسی ملک میں پھیلنے کے لیے تمہیں پچاس ہزار سال چاہئیں۔لیکن حالت یہ ہے کہ تمہاری کمریں ابھی سے ٹیڑھی ہوتی جارہی ہیں، ابھی سے جماعت کے کھاتے پیتے لوگ اپنے بچوں کو دنیا کی طرف دھکیلنے لگ گئے ہیں۔پچاس ہزار سال کے بعد تو تم مُردار گتے کی طرح ہو جاؤ گے۔یاد رکھو جو مبلغ سال میں ہزاروں احمدی نہیں بناتا وہ مغضوب علیہ واقف زندگی نہیں۔اُس پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہے اور وہ شیطان کا واقف زندگی ہے۔خدا تعالیٰ کا واقف زندگی نہیں۔اگر خدا تعالیٰ کا واقف زندگی ہوتا تو وہ دو آدمیوں کے آنے پر کیوں خوش علیہ ہے ہو جاتا۔اُسے تو چاہیے تھا کہ ہزاروں ہزارافراد اُس کے ذریعہ سے سلسلہ میں داخل ہوتے۔پس علاوہ اپنے مفوضہ کام کے تم میرے لئے بھی دعائیں کرو اور اپنے لئے بھی دعاؤں