خطبات محمود (جلد 36) — Page 187
خطبات محمود جلد نمبر 36 187 $1955 گورنمنٹ نے اُسے مکان خالی کرنے کا نوٹس دے دیا۔جرمنی میں مکانوں کی بہت کمی ہے۔کیونکہ پچھلی جنگ میں اکثر مکانات گر گئے تھے۔گورنمنٹ کی طرف سے نوٹس ملنے کی وجہ سے ہمارا مبلغ بہت غمگین ہوا اور اُس کی بھوک بند ہوگئی۔انتڑیاں پہلے ہی خراب تھیں اس لیے فاقہ کی وجہ سے اُس کی صحت اور بھی کمزور ہوگئی۔اُس کی بیوی جو قریب عرصہ میں غیر احمدی تھی لیکن اب نہایت اخلاص رکھتی ہے اُس کے پاس گئی اور کہنے لگی جب تم نے وقف کیا تھا تو ان سب مصائب اور مشکلات کو سامنے رکھ کر کیا تھا۔پھر اب گھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟ باہر جاؤ اور کسی دوست سے کچھ دنوں کے وعدہ پر رقم لے آؤ۔اتنے میں خرچ بھی آجائے گا۔اس پر اُسے کچھ تسلی ہوئی ، کھانا کھایا اور پھر کسی دوست سے قرض کے حصول کی کوشش کے لیے باہر چلا گیا۔ان ممالک میں قرض ملنا مشکل ہے۔لیکن خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ ایک جرمن دوست نے مکان کا کرایہ دے دیا اور تین دن کے بعد مرکز سے بھی خرچ پہنچ گیا اور کرایہ کی رقم اس جرمن دوست کو واپس کر دی گئی۔جرمنی میں ایک ہندو ڈاکٹر مجھے ایک اور ڈاکٹر کے پاس معائنہ کے لیے لے جا رہا تھا۔و 26 سال سے وہاں رہتا ہے۔اس نے مجھے کہا کہ میں پہلے دہر یہ تھا اب میں اسلام کی طرف مائل ہوں۔میں نے کہا میں تو تب مانوں جب تم پورے مسلمان ہو جاؤ۔وہ کہنے لگا اگر ان مولوی صاحب کی صحبت میں رہا تو پورا مسلمان بھی ہو جاؤں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ان ہی سے مل کر میرے خیالات تبدیل ہوئے ہیں۔بہر حال جرمنی کے مبلغ گوجسمانی لحاظ سے کمزور ہیں مگر نہایت مخلص ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے کام میں برکت پیدا کر رہا ہے۔ہالینڈ میں مولوی غلام احمد صاحب بشیر ہیں۔اُن کی یہ حالت ہے کہ ہمیں سفر یورپ میں ایک ڈرائیور کی ضرورت تھی۔چنانچہ ہم نے ہالینڈ سے چند ہفتوں کے لیے ایک نومسلم ڈرائیور منگوایا۔وہ ڈچ کہلاتا تھا لیکن دراصل انڈونیشیا کا رہنے والا تھا۔وہ کہنے لگا مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں لیکن پھر بھی 1953 ء میں پاکستانی مسلمان ہمیں مارتے تھے۔میں نے کہا دراصل احمدیوں کی تعدا د دوسرے مسلمانوں کی نسبت بہت تھوڑی ہے۔لیکن چونکہ ہماری جماعت روز بروز ترقی کر رہی ہے اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ہم ابھی سے ان کو ختم