خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 2

$1955 2 خطبات محمود جلد نمبر 36 کہ ہماری قوم کی سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ ہم نے محنت کا مفہوم بالکل بدل دیا ہے۔ایک نیک بات ہمارے بزرگوں نے ہمارے اندر جاری کی تھی اور ایک روحانیت کا دروازہ انہوں نے ہمارے لئے کھولا تھا۔لیکن ہم نے وہی چیز دین کے خلاف اُلٹ کے رکھ دی اور اس کو ہم نے اپنے نفس کا بہانہ بنالیا۔وہ بات یہ تھی کہ اعمال کے نتائج خدا تعالیٰ مرتب کرتا ہے۔انسان صرف کام کرتا ہے۔اس کا مطلب یہ تھا کہ تمہارے اعمال کے جو اچھے نتائج نکلیں تم انہیں اپنی طرف نہیں بلکہ خدا تعالی کی طرف منسوب کیا کرو۔جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں۔وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ 2 کہ جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو خدا تعالیٰ مجھے شفا دیتا ہے۔یعنی بیماری میری طرف سے آتی ہے اور شفا خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔اس میں یہی نکتہ تھا۔کہ ہر نیک بات خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا کرو اور ہر بُری بات اپنی طرف منسوب کیا کرو۔لیکن ہم نے وہی بات اٹھا کر ان کے اور دین کے خلاف کر دی اور جب ہمارے کسی کام کا نتیجہ نہیں نکلتا تو ہم اسے اپنی طرف منسوب نہیں کرتے بلکہ اسے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں ہم نے تو محنت کی تھی لیکن اس کا نتیجہ نکالناخدا تعالیٰ کے اختیار میں تھا۔اگر اس نے نہیں نکالا تو اس میں ہمارا کیا اختیار ہے۔اس طرح ہم اپنی کمزوری کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔حضرت خلیفۃ امسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کے نام کا اتنا غلط استعمال کیا ہے کہ انہوں نے دین کی کوئی چیز باقی نہیں چھوڑی۔کسی زمانہ میں جب مسلمان کہتے تھے کہ اس گھر میں خدا ہی خدا ہے۔تو اس کا یہ مطلب ہوتا تھا کہ اس گھر میں خدا تعالیٰ کی برکت پائی جاتی ہے، خدا تعالیٰ کی حکومت اس گھر میں ہے۔لیکن آجکل لوگ جب کہتے ہیں کہ اس گھر میں اللہ ہی اللہ ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس گھر میں کوئی چیز نہیں۔گویا جس چیز کو خدا تعالیٰ کی حکومت اور اس کی طاقت اور قوت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اسے اب نفی اور صفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے نزدیک اب صفر ہے اس کی کوئی طاقت اور قوت نہیں۔وہی معاملہ ہم نے تو کل سے کیا ہے۔ہم ایک کام کرتے ہیں۔اور جب اس کے لیے غلط یق اختیار کرتے ہیں ، اس کے لیے کمزور محنت کرتے ہیں یا اس سے قطعی غفلت کا معاملہ کرتے