خطبات محمود (جلد 36) — Page 108
$1955 108 خطبات محمود جلد نمبر 36 کیونکہ اولاد کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہوئی۔ایک مرد کی اور ایک عورت کی جو اس کی تسکین کا موجب ہو اور اُس کی نسل اندوزی کی صفت کو ظاہر کرے۔اللہ تعالیٰ ان سب باتوں سے پاک ہے۔یہ سب امور رب العالمین کی تشریح ہیں۔الله الصَّمَدُ بھی رَبِّ الْعَلَمِيْنَ کی تشریح ہے۔لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ بھی یہی رَبِّ الْعَلَمِينَ کی تشریح ہے۔غرض اسلام نے بتایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی صفات کو اس کی ذات سے الگ نہیں کر سکتے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایک اللہ ہے، ایک خالق ہے، ایک رازق ہے اور ایک مالک ہے۔کیونکہ ان میں سے ہر ایک اس کی ذات کا حصہ ہے۔اور الگ کوئی بھی وجود نہیں رکھتی۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ : میں بھی ربوبیت ، رحمانیت ، رحیمیت اور مالکیت میں سے کسی کا بھی کوئی الگ وجود نہیں۔وہ سب اللہ تعالیٰ کی اندرونی صفات کی مظاہر ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے میل جول سے مرکب نہیں بلکہ اپنی ذات میں منفرد ہے۔ایک دفعہ خلیفہ اسیح الاول بیمار تھے۔ہم اُن کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے آنکھ کھولی اور فرمایا کہ ابھی مجھے لا الہ الا الله کے معنے سمجھائے گئے ہیں۔اس میں بیان کیا گیا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی مفرد ہے۔باقی سب چیزیں مرکب ہیں۔مادہ اور روح کے مفرد ہونے کی بحث سب لغو ہے۔مادہ اور روح ہرگز مفرد نہیں یہ دونوں مرکب ہیں اور ان پر خدا تعالیٰ ہرگز قیاس نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا کوئی الگ وجود نہیں۔اور احد اور مفرد صرف اللہ تعالیٰ کی ہی صفات ہیں۔مثلاً دیکھو خالقیت انسان میں بھی پائی جاتی ہے لیکن جیسا کہ ڈاکٹر کہتے ہیں اس کی یہ صفات گوشت ، روٹی اور دیگر کھانے پینے کی چیزوں سے پیدا ہوتی ہے۔پھر عورت مرد سے ملتی ہے۔اس طرح یہ تمام چیزیں مرکب ہو کر بچے کی پیدائش کا موجب بنتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کی ہستی کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جو مفرد بھی ہو اور پھر بھی اس کی صفات ظاہر ہوں۔اللہ تعالیٰ احمد اور مفرد ہے اور لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ہے وہ مرکب نہیں اور نہ ہی کسی کا محتاج ہے۔کیونکہ نہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ بیٹا۔مفرد پر فنا نہیں آتی ، فنا ہمیشہ مرکب پر ہی آتی ہے۔کیونکہ فنا کے معنے ہیں مرکب کے اجزاء کا الگ الگ ہو جانا۔اور مفرد کے اجزاء نہیں ہوتے