خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 89

$1955 89 خطبات محمود جلد نمبر 36 کے سامنے جب رپورٹیں آئیں تو ہمیں یہ معلوم ہوا کہ بعض افسر جن پر ہم بدظنی کر رہے تھے انہوں نے نبض کو پہچانا تھا اور وقت پر گورنمنٹ کو توجہ دلائی تھی۔اور بعض افسر جن پر ہم حسن ظنی کر رہے تھے اُن کے متعلق معلوم ہوا کہ انہوں نے ذمہ داری کو نہیں سمجھا اور وقت پر اُس کے تدارک کی فکر نہیں کی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بیان کیا ہے کہ الہی حکومت جو الْحَمدُ کی مستحق ہوتی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ ہوتی ہے۔اس کے بہت سے پہلو ہیں لیکن میں ایک پہلو کو لیتا ہوں يَوْمِ الدِین کے لفظی معنی تو جزا سزا کے وقت کے مالک کے ہیں۔لیکن اصل مطلب یہ ہے کہ قومی یا مجموعی خرابی یا مجموعی طور پر اچھے کام کی جزا۔اور فیصلہ کے وقت انفرادی واقعات تو ہوتے ہی رہتے ہیں ان کے روکنے یا ان کی جزا دینے سے نہ گورنمنٹ ڈرتی ہے نہ اس پر ان کا کوئی بوجھ ہوتا ہے۔اصل میں قومی واقعات ہی ایسے آتے ہیں جنہیں يَوْمِ الدِّينِ کہنا چاہیے ایسے وقت بعض دفعہ گورنمنٹ ڈر جاتی ہے کہ پبلک ہم سے کل پوچھے گی یا بعض دفعہ وہ جزا دینے سے کوتاہی کر جاتی ہے۔کیونکہ جزا اس کی طاقت سے بڑھ جاتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ جزا سزا کے دن کا مالک ہے۔دنیوی حکومتیں جزا سزا کے دن کی حج تو ہوتی ہیں مالک نہیں ہوتیں۔خدا تعالیٰ جب جزا سزا دیتا ہے تو اُسے کسی کا ڈر نہیں ہوتا۔وہ مجبور نہیں ہوتا کہ کسی کو جزا دے یا سزا دے۔لیکن ایک حج ایسا نہیں کر سکتا۔کیونکہ عام عقل یہ کہتی ہے کہ کوئی قوم جو مجرم ہو وہ کسی وقت پکڑی جاتی ہے۔تو کل کو وہ پھر شرارت کرے گی۔جب مکہ فتح ہوا تو رسول کریم ﷺ نے اپنے دشمنوں کو یہ کہہ کر معاف کر دیا کہ لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ 2 اب يہ لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ والا سلوک ایک حج نہیں کر سکتا۔کیونکہ عام عقل یہ کہتی ہے کہ کوئی قوم جو مجرم ہو جب وہ کسی وقت پکڑی جائے تو اُسے سزا دینی چاہیے۔وگرنہ کل وہ پھر شرارت کرے گی۔لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تو مالک ہیں۔دنیوی حکومتیں اس لئے مجبور ہیں کہ اول تو وہ مالک نہیں۔دوسرے انہیں پتا نہیں ہوتا کہ کل کو کیا ہو جائے گا۔اگر آج عفو کر دیا تو ممکن ہے کل شرارت ہو جائے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم مالک ہیں آج کے دن کے بھی اور جب کل آئے گا تو ہم مالک ہیں کل کے دن کے بھی۔ہمیں یہ ڈر