خطبات محمود (جلد 36) — Page 84
خطبات محمود جلد نمبر 36 84 $1955 تعریف نہیں بلکہ ہر قسم کی تعریف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ رب العالمین ہے، بر ملک وملت کی ربوبیت کرتا ہے اور ہر مذہب و دین کے ماننے والوں سے نیک سلوک کرتا ہے اگر کوئی گورنمنٹ اس اصول پر چلے یعنی اُس کا فائدہ صرف اُس کے باشندوں کو نہ پہنچے بلکہ دوسری قوموں کا بھی وہ خیال رکھے اور صرف ایک خاص قسم کے گروپ کا خیال نہ رکھے۔جیسا کہ کمیونزم والے لیبر کا ہی خیال رکھتے ہیں یا امریکہ والے کیپٹلسٹ کا ہی زیادہ خیال رکھتے ہیں۔بلکہ اس کے قوانین اور کوششیں ادنی اقوام اور غریبوں کی پرورش کے لئے بھی ہوں اور انہیں اونچا کرنے والی ہوں اور امیروں کو بھی اپنی طاقت اپنے علم کے مطابق اور اپنے ذرائع کو استعمال کر کے فائدہ اٹھانے کے مطابق ہوں تو ایسی ہستی کی سارے تعریف کرتے ہیں۔اس کی تعریف مزدور طبقہ بھی کرے گا کہ وہ اُس کا بھی فائدہ کر رہی ہے اور مالدار طبقہ بھی کرے گا کہ وہ اُس کا بھی فائدہ کر رہی ہے۔جب کوئی حکومت سارے ملکوں کی خدمت کرے گی تو صرف روس اور امریکہ ہی اس کی تعریف نہیں کرے گا بلکہ ہندوستان والے بھی کریں گے، پاکستان والے بھی کریں گے ، امریکہ والے بھی کریں گے، روس والے بھی کریں گے، جرمنی والے بھی کریں گے۔کیونکہ اس کا فائدہ باہر کے لوگوں کو بھی پہنچے گا۔آج میں دوسری آیت کو لیتا ہوں یعنی الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 3 کو۔فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی تعریف اس لئے ہے کہ وہ رحمان اور رحیم ہے۔جو رحمان اور رحیم ہوگا وہ ساری قوموں کی تعریف کا مستحق ہوگا۔رحمن کے معنی قرآن کریم کی رو سے یہ معلوم ہوتے ہیں۔یعنی اُس استعمال کی رو سے جو قرآن کریم نے اس لفظ کا کیا ہے۔اس کی رُو سے یہ معنے ہیں کہ جس نے کوئی نیک کام اور کوئی خدمت نہ کی ہو اُس کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کرنے والا۔اور جس کے پاس کچھ نہ ہو اُسے وہ ذرائع مہیا کر کے دینے والا ہو جن ذرائع کی وجہ سے وہ اعلیٰ ترقی حاصل کر سکے۔اور رحیم کے معنی یہ ہیں کہ ہر شخص جو کام کرتا ہے اُس کے کام کا بدلہ متواتر جاری رہے۔دنیا میں اس کی مثال پینشن میں ملتی ہے۔یعنی ایک آدمی نوکری کرتا ہے پھر بیس بائیس چالیس سال کے بعد وہ گورنمنٹ کا کام چھوڑ دیتا ہے تو اُس کو پنشن مل جاتی ہے۔رحیم کا یہی مطلب ہے کہ جب کوئی شخص نیک کام کرتا ہے تو اس کا بدلہ جاری رکھتا ہے۔بار بار دیتا ہے۔تو پنشن ایک ادنیٰ مثال ہے۔