خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 78

$1955 78 خطبات محمود جلد نمبر 36 اُس کی تعریف کرتا ہے۔نہ یہ فائدہ مکمل نہ یہ تعریف کامل۔کامل تعریف اُس وقت ہوتی ہے جب اَلْحَمْدُ لِلهِ پر عمل کیا جائے۔سورۂ فاتحہ میں تمام گر بیان کئے گئے ہیں۔سب سے پہلا موٹا گر یہ بیان کیا ہے کہ خدمت خلق کرو اور بلا غرض اور بلا ذاتی فائدہ کی خواہش کے خدمت کرو۔اگر ایسا کرو گے تو ہر شخص تمہاری تعریف کرے گا۔لیکن اگر کوئی صرف کی ایک طبقہ کو اٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو وہی طبقہ اُس کی تعریف کرے گا۔مثلاً کوئی حکومت لیبر کو اٹھاتی ہے تو لیبر ہی اُس کی تعریف کریں گے۔بڑے اور درمیانہ درجہ کے نہیں کریں گے۔اور اگر کوئی حکومت درمیانہ اور بڑے درجہ کو اٹھانے کی کوشش کرے تو یہ طبقے ہی تعریف کریں گے لیبر صلى الله نہیں کریں گے۔کیونکہ وہ حکومت رب العالمین نہیں بلکہ فرقہ اور جماعت کی رب ہے۔حقیقی حکومت وہی ہے جو تمام طبقوں کو بلکہ قوم کو بھی بھلا دے۔کیا اس تعلیم پر عمل کرنے کے بعد دنیا میں امن کے مٹنے کا شائبہ بھی ہو سکتا ہے؟ اور کیا کوئی ایسی قوم کا دشمن بھی ہوسکتا ہے۔دوسرے وجوہ سے دشمن ہو جائے تو ممکن ہے لیکن اس فعل کی وجہ سے دشمن نہیں ہو سکتا۔رسول کریم ہے نے اس پر عمل کیا لیکن پھر بھی بعض لوگ آپ کے دشمن ہیں۔مگر اس وجہ سے نہیں کہ آپ نے غریبوں کو کیوں اونچا کیا بلکہ مذہبی تعصب کی وجہ سے۔اس لیے کہ آپ نے نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ کی کیوں تعلیم دی۔اسی طرح اگر آج لوگ احمدیت کے دشمن ہیں تو اس وجہ سے نہیں کہ احمدی یتیموں کی پرورش کرتے ہیں ، غریبوں کی امداد کرتے ہیں اور بیواؤں سے حسن سلوک کرتے ہیں اور خدام الاحمدیہ ہر ایک کی مدد کرتے ہیں۔بلکہ اس لیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ایسا مخالف شقی القلب ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔" (الفضل 31 مئی 1955ء) 1: الفاتحة: 2 : لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (الج:38)