خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 69

$1955 69 خطبات محمود جلد نمبر 36 رو نہیں سکوں گا۔لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ آپ تھوڑا بولیں اس سے آپ کی جماعت بھی خوش ہوگی اور آپ کی بھی تفریح ہو جائے گی۔میں نے بتایا کہ مجھے تو لمبا بولنے کی عادت ہے اور اگر بولنا شروع کروں تو دیر تک بولتا چلا جاتا ہوں۔انہوں نے پھر کہا کہ آپ اپنے پاس دونوں طرف و آدمی بٹھا لیں جو تھوڑی دیر کے بعد گرتا سے پکڑ کر آپ کو کھینچ کر بتادیں اور آپ تقریر ختم کر دیں۔میں نے کہا یہ کس کو جرات ہو سکتی ہے تو انہوں نے کہا کہ آپ اپنے بیٹوں میں سے کسی کو پاس بٹھالیں۔میں نے کہا میں تو اُن کی طرف اگر غضب سے دیکھوں بھی تو وہ پہلے ہی بہت دور بھاگ رہے ہوں گے۔لیکن چونکہ انہوں نے پھر بھی اصرار کیا اس لیے میں نے خیال کیا کہ یہ بھی کوئی الہی تحریک ہی ہوگی۔اس لیے میں نے ان کی بات مان لی اور فیصلہ کیا کہ میں جمعہ بھی پڑھاؤں گا۔کل ظہر اور عصر کی نماز بھی میں نے اسی لئے باہر پڑھائی تھی۔بہر حال اس طرح وہ بھی اس کے ثواب میں شریک ہو گئیں اور آپ لوگوں کی بھی خواہش پوری ہوگئی۔چند دنوں کے اندر اندر ہم انشاء اللہ چلے جائیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کون۔گا اور کون نہیں۔میں جاتے ہوئے جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس ایک ایسا خزانہ ہے جو کسی کے پاس نہیں ہے اور وہ خزانہ دعا کا ہے۔ہم نے ہمیشہ اس سے پہاڑ اُڑتے اور سمندر خشک ہوتے دیکھے ہیں۔اس خزانہ کو مضبوطی سے پکڑو اور ہاتھ سے جانے نہ دو۔ورنہ اس کی مثال ایسی ہوگی جیسے کسی کو سونے کی کان ملے اور وہ اُسے چھوڑ کر سمندر کے کنارے گوڑیاں 1 چپنے کے لیے چلا جائے۔اب ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ وقت ختم ہو گیا ہے اس لیے میں خطبہ ختم کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔اور ہر حالت میں اور ہر موقع پر اور ہر زمانہ میں آب لوگوں کے ساتھ ہو۔“ (الفضل 20 اپریل 1955ء) 1 گوڑی : سمندر کے کیڑوں کے چھوٹے چھوٹے خول۔ایک قسم کا چھوٹا صدف جو کسی زمانہ میں خرید وفروخت کے سلسلہ میں سکتے کا کام دیتا تھا، دیہی زیورات میں بھی مستعمل تھا۔( اُردو لغت تاریخی اصول پر جلد 15 صفحہ 353۔کراچی جون 1993 ء)