خطبات محمود (جلد 36) — Page 17
$1955 17 خطبات محمود جلد نمبر 36 فرض ہے کہ وہ قوم کے بچوں میں محنت کی عادت پیدا کریں۔یہاں یہ رسم ہے کہ ہر کارکن یہ سمجھتا ہے کہ فلاں کام فلاں شخص کر دے گا اور کوئی شخص کسی کام کی ذمہ داری اپنے او پر نہیں لیتا۔اور جب پکڑا جاتا ہے تو ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ یہ میرا قصور ہے۔میرا اپنا ایک عزیز ہے جو میرے کاموں پر مقرر ہے۔اس سے جب بھی دریافت کرو وہ یہی کہتا ہے کہ میں نے تو کام کیا تھا لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا ہو گیا ہے اس میں میرا کیا قصور ہے۔گو یا خدا تعالیٰ سب اچھے کام بُھول گیا ہے۔اب اس کا صرف اتنا ہی کام رہ گیا ہے کہ وہ تمہارے کاموں کو خراب کرتا رہے۔تم یہ گندگی اپنے ذہن سے نکالو۔جب تم یہ گندگی اپنے ذہن سے نکال دو گے تو تمہارے اندر نئی زندگی ، نئی روح اور بیداری پیدا ہو جائے گی۔یورپ والوں کو دیکھ لو ان میں سے جب بھی کوئی پکڑا جاتا ہے تو وہ فورا اپنے قصور کا اقرار کر لیتا ہے اور کہتا ہے میں سزا کا مستحق ہوں ، مجھے بے شک سزا دی جائے۔لیکن ہمارے ہاں اگر کوئی پکڑا جاتا ہے تو کہتا ہے میرا اس میں کوئی قصور نہیں۔میں نے پوری محنت کی تھی نتیجہ خدا تعالیٰ کے اختیار میں تھا۔اور جب اُسے کوئی سزا دو گے تو فوراً دس آدمی آجائیں گے اور کہیں گے اس پر رحم کریں۔خدا تعالیٰ نے عفو اور رحم کی تعلیم دی ہے۔بیوی کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ ہدایت دی ہے کہ اسے طلاق دو تو احسان سے کام لو 5۔آپ بھی اس شخص پر احسان کریں۔اور کوئی نہیں سمجھتا کہ اس قسم کی باتیں کرنے والے سے رحم کرنا عقل کی بات نہیں۔رحم اور احسان کا سوال انفرادی معاملات میں ہوتا ہے قو می تنظیم میں نہیں ہوتا۔اگر قو می تنظیم میں بھی رحم اور احسان کیا جائے تو قوم کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔یورپ میں تم اس قسم کا کوئی واقعہ نہیں دیکھو گے کہ کوئی شخص قومی جُرم کرے اور پھر اس پر رحم کیا گیا ہو۔ایک نہیں میں نے بیسیوں تاریخی اور ایڈ منسٹریٹو کتا بیں پڑھی ہیں ان میں بیسیوں ایسی مثالیں پڑھی ہیں کہ ایک شخص جو اس حیثیت کا ہے کہ تم اس کا کپڑا پرانے سے بھی ڈر گئے۔جب اُسے کسی قصور میں پکڑا گیا تو اُس نے کہا میں قصور وار ہوں۔میں سزا لوں گا۔اس روح کے پیدا ہو جانے کے نتیجہ میں قوم ترقی کرتی ہے۔کیونکہ ہر ایک شخص یہ خیال کرے گا کہ اگر اُس نے کوئی غلطی کی تو ساری قوم کہے گی تم مجرم ہو تم قصور وار ہو۔اس کا باپ، اس کا بیٹا، اس کا بھائی ، غرض اس کے سب رشتہ دار بھی اسے قصور وار سمجھیں گے۔