خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 16

$1955 16 خطبات محمودجلد نمبر 36 رعایت کی تھی۔مثلاً اگر اس نے ضَرَبَ کی گردان پوچھی تھی تو اس نے ضَرَبَ ، ضُرِبَ ، ضِرْباً لکھ دیا۔تو استاد نے یہ دیکھ کر کہ اس نے ضَرَبَ تو صحیح لکھ دیا ہے اسے نمبر دے دیئے۔اب دیکھ لو اس کی وجہ یہی تھی کہ بیٹے نے اسے لکھ دیا تھا کہ استاد نے ضد کی وجہ سے مجھے فیل کر دیا ہے۔یہ چیز قوم کی بربادی کی علامت ہوتی ہے۔ایک دفعہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔آپ ایک خط پڑھ رہے تھے اور چھ سات اور آدمی بھی پاس بیٹھے تھے۔آپ خط پڑھتے پڑھتے ہنس پڑے اور فرمایا میاں ! ذرا یہ خط پڑھو اور خط میرے ہاتھ میں دے دیا۔میں نے خط پڑھا تو دیکھا کہ وہ واقع میں ایک لطیفہ تھا۔وہ خط ایک طالب علم کی نانی کی طرف سے لکھا ہوا تھا۔لڑکا بورڈنگ میں رہتا تھا۔اس نے خیال کیا کہ میرے والد قادیان سے محبت رکھتے ہیں اس لئے انہوں نے مجھے یہاں داخل کیا ج ہے۔اگر میں نے اپنے باپ کو قادیان کے ماحول کے خلاف کوئی بات لکھی تو وہ یقین نہیں کریں گے۔نانی کو مجھ سے زیادہ محبت ہے اسے میں لکھوں تو وہ میری بات مان لیں گی۔چنانچہ اس نے اپنی نانی کو لکھا کہ مجھے یہاں ایک پنجرے میں بند کر دیا گیا ہے۔اور جس طرح پنجرے میں بند کئے ہوئے جانو رکو وہیں کھانا اور پانی مہیا کر دیا جاتا ہے اور اسے پیشاب اور پاخانہ بھی پنجرے میں ہی کرنا پڑتا ہے اسی طرح مجھے بھی پیشاب اور پاخانہ پنجرہ میں ہی کرنا پڑتا ہے۔اور اسی میں مجھے کچھ کھانے پینے کو دے دیا جاتا ہے۔اگر کچھ عرصہ تک میری یہی حالت رہی تو میں مر جاؤں گا۔خدا کے لئے مجھے یہاں سے جلدی لے جاؤ۔نانی کو چونکہ نوا اسے سے محبت تھی اس لئے اُس نے حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کو لکھا کہ میرے نواسے کا خیال رکھا جائے اور اُسے قید سے جلد رہا کیا جائے۔اتفاقا وہ لڑکا بھی اُس وقت پاس ہی بیٹھا تھا۔حضرت خلیفہ اُسیح الاوّل فرمانے لگے۔میاں ! یہ خط پڑھ لو اور اس لڑکے سے پوچھو کہ وہ پنجرہ کہاں ہے جس میں تم بند ر ہتے ہو۔اس لڑکے نے کہا میں چونکہ اُداس ہو گیا تھا اور یہاں سے واپس جانا چاہتا تھا مجھے علم تھا کہ باپ میری بات نہیں مانے گا اس لئے میں نے چاہا کہ نانی کو ڈراؤں شاید کام بن جائے۔پس تم اپنی اصلاح کرو۔اور اپنا رویہ تبدیل کر و خصوصاً خدام الاحمدیہ سے میں کہتا ہوں کہ وہ خود بھی محنت کی عادت ڈالیں اور دوسروں کو بھی محنت کی عادت ڈلوائیں۔پھر اساتذہ کا بھی