خطبات محمود (جلد 36) — Page 249
$1955 249 خطبات محمود جلد نمبر 36 کیں۔یعنی پہلے تو ہم نے اس کی جسمانی خلق کی۔اس کے ناک، کان ، ہاتھ اور پاؤں بنا دیے، دھڑ بنا دیا۔اس کے بعد ہم نے اس کے دماغ کی اس قدر تربیت کرنی شروع کی اور اس کی قوتوں کا اس طرح ارتقاء شروع کیا کہ وہ صفات الہیہ کو اپنے اندر جذب کرنے کے قابل ہو گیا۔اور اس کے اندر ان کے اظہار کی اہلیت پیدا ہوگئی۔اس کے بعد ہم نے ملائکہ سے کہا کہ تم اب اس انسان کو سجدہ کرو۔حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم میں اس بات پر بار بار زور دیا گیا ہے سجدہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی کے سامنے جائز نہیں۔اس لیے ہم کہتے ہیں کہ اس سجدہ سے مراد مجازی سجدہ ہے۔اور اسکے معنے اطاعت کے ہیں۔مگر مجازی سجدہ بھی تو مجازی خدا کے سامنے ہی ہوسکتا ہے۔اس لیے فرمایا ثُمَّ صَوَّرُ نَكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَبِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ کہ پہلے تو ہم نے تمہارے اندر خدائی صفات پیدا کیں اور جب تم خدائی صفات کے جذب کرنے اور ان کے اظہار کرنے کے قابل ہو گئے تو ہم نے ملائکہ سے کہا کہ سجدۂ حقیقی تو بہر حال میرے سوا کسی اور کے سامنے کرنا منع ہے لیکن ہم تم کو ایک مجازی سجدہ کا حکم دینے لگے ہیں اور اس سجدہ کے لیے ایک مجازی خدا کی ضرورت ہے۔اور وہ مجازی خدا وہ انسان ہے جس کے اندرالہی صفات پائی جائیں۔پس اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ یہاں جس آدم کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد ابوالبشر آدم نہیں بلکہ اس سے ہر انسان کامل مراد ہے۔کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے خَلَقْنَكُمْ فرمایا ہے۔خَلَقْنک نہیں فرمایا۔اسی طرح فرمایا ثُمَّ صَوَر نَكُم پھر ہم نے تم سب کے اندر یہ مادہ پیدا کیا کہ تم الہی صفات کو اپنے اندر جذب کر سکو اور ان کا اظہار کر سکو۔پھر جب تم میں سے بعض نے اپنے اندر خدائی صفات پیدا کر لیں تو ہم نے ملائکہ سے کہا انسجدُ و الادم تم اس آدم کو سجدہ کرو۔کیونکہ اس کے اندر ہماری صفات آگئی ہیں اور وہ انہیں ظاہر کرنے لگ گیا ہے۔چنانچہ مختلف زمانوں میں مختلف آدم تھے۔کسی زمانہ میں ابوالبشر آدم تھے۔کسی زمانہ میں نوح علیہ السلام آدم تھے۔کسی زمانہ میں ابراہیم علیہ السلام آدم تھے۔کسی زمانہ میں اسحاق علیہ السلام آدم تھے۔کسی زمانہ میں یعقوب علیہ السلام آدم تھے۔کسی زمانہ میں یوسف علیہ السلام آدم تھے۔کسی زمانہ میں موسیٰ علیہ السلام آدم تھے۔کسی زمانہ میں داؤد علیہ السلام آدم تھے۔کسی زمانہ میں ہر میاہ علیہ السلام