خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 223

$1955 223 خطبات محمود جلد نمبر 36 خاتم النبین ہونے سے کیسے انکار کر سکتے ہیں۔اگر یہ بات صرف حدیث میں آتی تو گو ہم حدیثوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں لیکن کہنے والا کہہ سکتا تھا کہ چونکہ یہ بات قرآن کریم میں نہیں آئی اس لیے رسول کریم ﷺ کے خاتم النبین ہونے پر تم یقین نہیں رکھتے۔لیکن یہ لفظ تو قرآن کریم میں آیا ہے۔پس جو شخص رسول کریم ﷺ کو خاتم النبین نہیں مانے گا وہ دوسرے الفاظ میں قرآن کریم کو بھی نہیں مانے گا۔لیکن ہم تو قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں۔پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو خاتم النبین یقین نہ کریں۔لفظ خاتم النبین کی تشریح میں اختلاف ہوسکتا ہے لیکن رسول کریم ﷺ کو خاتم النبین یقین کرنے میں کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا۔ہر شخص جو قرآن کریم کو مانتا ہے لازماًوہ آپ ﷺ کو خاتم النبین بھی مانے گا۔صلى الله صل الله جب ہماری جماعت کے افراد معترضین کو یہ جواب دیتے تھے تو وہ کہتے تھے کہ تم قرآن کریم کو بھی نہیں مانتے۔تم تو مرزا صاحب ( علیہ الصلوۃ والسلام ) کے الہامات کو قرآن کریم سے افضل سمجھتے ہو۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم آپ کے الہامات کو قرآن کریم کے تابع سمجھتے ہیں اور انہیں قرآن کریم کا خادم قرار دیتے ہیں۔جیسے مرزا صاحب علیہ الصلوۃ والسلام محمد رسول اللہ ہے کے خادم ہیں اسی طرح آپ کے الہامات قرآن کریم کے خادم ہیں۔انہیں کوئی علیحدہ اور مستقل حیثیت حاصل نہیں۔چنانچہ آپ نے اپنی کتابوں میں صاف طور پر لکھا ہے کہ " اگر میں آنحضرت ﷺ کی امت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ و مخاطبہ ہرگز نہ پا تا 3 پس جس طرح یہ بات سچ ہے کہ حضرت مرزا صاحب محمد رسول اللہ ﷺ کے خادم اور غلام ہیں اسی طرح یہ بات بھی سچ ہے کہ اگر کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کو قرآن کریم کا مخالف یا اسے رد کرنے والا سمجھتا ہے تو وہ احمدیت اور اسلام سے خارج ہے۔بہر حال یہ بات گوانتہائی غیر معقول تھی لیکن کہا جاتا تھا کہ ہم حضرت مرزا صاحب کے الہامات کو نعوذ باللہ قرآن کریم پر مقدم خیال کرتے ہیں اور قرآن کریم کو محض دکھاوے کے طور پر مانتے ہیں۔حالانکہ اگر اُن کا یہ اعتراض سچا ہے تو پھر ہم بیرونی ممالک میں جا کر اسلام کی اشاعت کے لیے کیوں تکالیف اٹھارہے ہیں ؟ اگر رسول کریم علی اور قرآن کریم پر ہم بچے طور پر ایمان نہیں لاتے تو ہم اسلام کو پھیلانے کے لیے دوسرے ممالک