خطبات محمود (جلد 36) — Page 11
خطبات محمود جلد نمبر 36 11 $1955 جیسا کہ میں نے بتایا ہے میری طرح کے زکام اور نزلہ کی خبر میں ان دنوں متعدد جگہوں سے موصول ہوئی ہیں۔خصوصار بوہ کے تو درجنوں آدمیوں کی طرف سے اس قسم کی خبر ملی ہے کہ وہ نزلہ اور زکام میں مبتلا ہیں۔شاید ہمارے علاقہ میں تو اس کی یہ وجہ ہے کہ کافی عرصہ سے یہاں بارش نہیں ہوئی گرد اڑتی ہے۔یہ گرد سانس کے ذریعہ ناک کے اندر چلی جاتی ہے۔اس سے خراش پیدا ہوتی ہے اور اس خراش سے نزلہ اور زکام ہو جاتا ہے۔بہر حال میں آ گیا ہوں اور اس غرض سے آیا ہوں کہ مختصر سا خطبہ پڑھ کے میں بھی جمعہ میں شمولیت حاصل کرلوں اور اپنا فرض بھی ادا کر دوں۔میں نے اس سے پہلے خطبہ میں یہ بتایا تھا کہ ہماری ساری جماعت کو یہ عہد کر لینا چاہیے کی کہ وہ محنت سے کام کرے گی اور عقل سے محنت کرے گی اور پھر اپنے آپ کو ہر کام کے نتیجہ کی ذمہ دار قرار دے گی۔یہ ہیں تو ایک ہی چیز کے تین حصے۔لیکن یہ تین درجے ہیں اول یہ کہ محنت سے کام کیا جائے۔لیکن صرف محنت کیساتھ کوئی کام مکمل نہیں ہو سکتا جب تک محنت عقل سے نہ کی جائے۔اور عقل سے محنت کبھی نہیں کی جاسکتی جب تک کہ انسان اپنے آپ کو نتائج کا ذمہ دار قرار نہ کی دے۔اگر کسی کا دل یہ محسوس کرتا ہے کہ ناکامی کی صورت میں وہ قوم کے سامنے ہزار بہانے بنا سکتا ہے۔اگر کسی شخص کو یہ یقین ہے کہ نا کامی کی صورت میں وہ اپنی عزت بچا سکتا ہے۔اور اپنی شہرت کی اور مقام کو محفوظ کر سکتا ہے تو وہ یقینا پوری محنت نہیں کرے گا۔کیونکہ کسی کام کو محنت سے کرنے کے بڑے بڑے Incentive یعنی محرک اور سبب دنیا میں یہی ہوتے ہیں کہ انسان چاہتا ہے کہ اس کی کام کے نتیجہ میں وہ سرخروئی حاصل کرے وہ اپنی قوم اور اپنے ملک کے سامنے سرخروئی حاصل کرے اور اردگرد کے لوگوں میں عزت حاصل کرے۔اگر یہ محرک نکال دو یا با وجود نا کا می کے اس می چیز کا کوئی اور سبب قرار دے دو تو انسان محنت نہیں کرے گا۔وہ لوگ جنہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک آگ دی گئی ہے وہ اس سے مستی ہیں۔انبیاء اور مصلح اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے ہادی اور راہ نما خدا تعالیٰ کی طرف سے پیدائشی طور پر ایک آگ لے کر آتے ہیں۔انہیں کسی کے سکھانے اور تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ان کے اندر ایک آگ ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ دنیا کے اندر ایک تغیر پیدا کر دیتے ہیں۔وہ انقلابی وجود ہوتے ہیں۔اور جنہیں خدا تعالیٰ نے انقلابی وجود بنا دیا سو بنا دیا یا جنہیں خدا تعالیٰ نے آگ دے دی سو دے دی۔لیکن اگر کسی کو دنیا میں