خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 188

$1955 188 خطبات محمود جلد نمبر 36 کر دیں ورنہ جب ان کی تعداد زیادہ ہو جائے گی تو انہیں ختم کرنا مشکل ہوگا۔تمہارے ہاں بھی اگر جماعت کچھ زیادہ ہو گئی اور لوگوں نے سمجھ لیا کہ یہ لوگ یہاں بڑھتے چلے جائیں گے تو وہ مولوی غلام احمد بشیر کو ماریں گے۔اس پر اُس نے بڑے جوش سے کہا مولوی غلام احمد بشیر کو کون مارسکتا ہے؟ وہ تو محبت کے قابل ہے۔کوئی شخص اُس پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتا۔میں نے کہا انسان جب غصہ میں آتا ہے تو محبت اُس کی آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔پس میں جماعت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ چندے وسیع کرو تا تبلیغ کو وسیع کیا جا سکے۔اسی طرح ربوہ کو آباد کرنے کی کوشش کرو۔میں دیکھتا ہوں کہ کئی مکانوں کی جگہیں ابھی خالی پڑی ہیں اور کئی تعمیر شدہ مکان ایسے ہیں جن میں اس وقت کوئی نہیں بستا۔اس کے علاوہ ربوہ کو شہریت دینے کی کوشش کرو۔اب تو جو لوگ یہاں آباد ہیں وہ مجاور قسم کے ہیں یعنی یہاں بسنے والے زیادہ تر سلسلہ کے کارکن ہیں جن کا گزارہ چندوں پر ہے۔شہر وہ ہوتا ہے جس کے اکثر رہنے والے خود کمائی کرتے ہوں اور چندوں پر اُن کا انحصار نہ ہو۔ورنہ اگر کسی حادثہ کی وجہ سے خدانخواستہ رستے رُک جائیں اور چندوں کی آمد میں کمی واقع ہو جائے تو آبادی کے گزارہ کی کوئی صورت نہ رہے۔مثلاً ابھی سیلاب آیا ہے۔اس کی وجہ سے اگر خدانخواستہ چندوں کی آمد میں کمی واقع ہو جائے تو مرکزی ادارے اپنے کارکنوں کو تنخواہیں بھی نہیں دے سکتے۔لیکن اگر ربوہ میں رہنے والوں میں سے اکثر لوگ ایسے ہوں جو مختلف کام کرنے والے ہوں اور وہ اپنی کمائی خود کرتے ہوں تو ایسی مشکلات کا وقت بھی آسانی سے گزرسکتا ہے۔لائل پور اور سرگودھا وغیرہ شہروں کے رہنے والوں کا گزارہ منی آرڈروں پر نہیں بلکہ وہاں رہنے والے افراد کی تجارتوں اور کارخانوں وغیرہ پر ہے۔لیکن ربوہ میں رہنے والوں کا گزارہ منی آرڈروں پر ہے۔باہر سے روپیہ آتا ہے تو ہم اپنے کارکنوں کو تنخواہیں دیتے ہیں۔پس جہاں میں ایک طرف جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ چندوں کو بڑھائے ، چندے بڑھیں گے تو سلسلہ کا کام بڑھے گا وہاں میں باہر کے دوستوں کو بھی اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ مرکز میں آئیں اور یہاں مختلف صنعتیں جاری کرنے کی کوشش کریں۔اسی طرح میں بیرونی ممالک میں کام کرنے والے مبلغین سے کہتا ہوں کہ وہ بھی