خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 157

$1955 157 خطبات محمود جلد نمبر 36 ہیں لیکن اب یہ حالت ہے کہ سوائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد کے اور یا پھر میری اولاد کے اور کسی جگہ سے ہمیں واقف زندگی نہیں مل رہے۔کبھی کبھی تو جب میں اس کی حالت کو دیکھتا ہوں اور مجھے ڈر آتا ہے کہ کہیں میری اولا د بھی کسی وقت دوسروں کو دیکھ کر دین کی خدمت سے منہ نہ پھیر لے تو میرے دل میں جوش آتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں کہ الہی ! مجھے صرف ایسی اولاد کی ضرورت ہے جو تیرے دین کی خدمت گزار ہو۔تو مجھے ایسا دن نہ دکھا ئیو کہ تیرے دین کو قربانی کی ضرورت ہو اور میرے بیٹے اس کے لیے تیار نہ ہوں۔اور اگر کوئی ایسا دن آنے والا ہو تو تو بڑی خوشی سے مجھے بے اولا د کر دے۔کیونکہ میرا نام تو نے روشن کرنا ہے میری اولا د نے نہیں۔میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ میری ساری اولا د دین کی خدمت کرنے والی ہو۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بیٹا نہ تھا مگر کیا دنیا میں کوئی شخص ہے جو آپ کا نام عزت سے نہیں لیتا ؟ آپ کا خدا سے تعلق ہو گیا اور خدا نے آپ کے نام کو ابدی طور پر زندہ کر دیا۔پس جس کا خدا سے تعلق ہو جائے اُسے ڈ رہی کس بات کا ہوسکتا ہے۔حضرت مسیح ناصری کو دیکھ لو۔آپ کی کوئی جسمانی اولاد نہ تھی جو آپ کے نام کو زندہ رکھتی۔مگر آج ساری دنیا کے عیسائی گواپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے انہیں خدائی کا رتبہ دیتے ہیں مگر وہ آپ پر اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔وہ کام خود اچھا کرتے ہیں۔مگر ہر اچھا کام کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ کرسچین سویلائزیشن ہے۔چونکہ ان کی قوم میں رحم کا جذ بہ زیادہ پایا جاتا ہے اس لیے اگر وہ کسی موقع پر رحم سے کام لیتے ہیں تو ساتھ ہی کہہ دیتے ہیں کہ یہ کرسچین سویلائزیشن ہے۔یہ سیخ کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔اگر مسیح کے اپنے بیٹے ہوتے تو کیا بن جاتا اور ان کا نام کتنے عرصہ تک باقی رہتا ؟ لیکن چونکہ انہوں نے اپنی زندگی خدا تعالیٰ کے لیے وقف کر دی اس لیے خدا تعالیٰ نے ان کو وہ عظمت دی کہ آج سارا یورپ اور سارا امریکہ اُن کی عزت کر رہا ہے۔بلکہ یورپ کے ایک چھوٹے سے چھوٹے ملک کے عیسائی جس طرح حضرت مسیح کو یا درکھتے ہیں اگر اُن کے اپنے بیٹے بھی موجود ہوتے تو اس طرح اُن کو یاد نہیں رکھ سکتے تھے۔