خطبات محمود (جلد 36) — Page 81
$1955 81 خطبات محمود جلد نمبر 36 مَا أُرِيدَ بِهَا وَجُهُ الله A یعنی یہ ایسی تقسیم تھی جس میں خدا تعالیٰ کی رضا کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔اب یہ ایک اعتراض ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ وہ تقسیم جس میں خدا تعالیٰ کی رضا کو مدنظر نہ رکھا جائے چند قسم کی ہو سکتی ہے۔مثلاً ایسی تقسیم کہ اپنے آپ انسان مال کھا جائے۔یا ایسی تقسیم جس میں رشتہ داروں کو مال دے دے۔یا ایسی تقسیم کہ جس نے اعتراض کیا ہے اس کا حق مارا جائے۔تبھی وہ غلط ہوسکتی ہے۔لیکن اُس نے ایک مثال بھی پیش نہیں کی۔آب بکواس کرنے کو تو ہر شخص بکواس کر سکتا ہے۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ جب اُس نے کہا کہ مَا يُرِيدُ بِهَا وَجُهُ اللهِ تو کیا اُس نے کوئی مثال پیش کی کہ میرا حق مجھے نہیں دیا ؟ یا کیا اُس نے یہ مثال پیش کی کہ آپ نے اپنا حصہ اتنا نکال لیا جو جائز نہیں تھا یا اپنے رشتہ داروں کو اتنا مال دے دیا جو جائز نہیں تھا ؟ کوئی ایک مثال پیش نہیں کی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے فقرہ نے ہی بتا دیا کہ وہ جھوٹا الزام لگا رہا تھا۔ورنہ ان تینوں مثالوں میں سے کوئی مثال تو بتاتا جس میں ناجائز سلوک ہوتا ہے۔یا یہ بتا تا کہ آپ نے مال زیادہ لے لیا یا یہ کہ اپنے رشتہ داروں کو مال دے دیا جس کے وہ مستحق نہیں تھے۔یا یہ کہ میں مستحق تھا مجھے نہیں دیا۔تو نہ رشتہ داروں کی مثال پیش کرتا ہے اور نہ اپنی مثال پیش کرتا ہے جس سے ثابت ہو کہ اُس کا اعتراض معقول تھا۔پس پتا لگا کہ وہ در حقیقت رسول کریمہ کی رب العالمین والی ظلی صفت پر اعتراض نہیں کرتا بلکہ محض اپنی حماقت کا اقرار کرتا ہے۔تو اس قسم کے اعتراضات رسول کریم ہے کے طلب رب العالمین ہونے کو زیادہ ثابت کرتے ہیں۔اگر واقع میں کوئی غلطی کی ہوئی تھی تو وہ بتا تا کیوں نہ کہ یہ غلطی ہوئی ہے۔اُس کا نہ بتا نا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ بھی جانتا تھا کہ آپ رب العالمین ہیں اور میں اعتراض کر ہی نہیں سکتا۔نہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میرا حق نہیں دیا کیونکہ جھوٹا بنوں گا۔نہ یہ کہ سکتا ہوں کہ اپنے رشتہ داروں کو دے دیا ہے۔نہ یہ کہ حضور نے خود لے لیا۔کیونکہ لوگ کہیں گے کہ بتاؤ تو سہی کہاں لے لیا۔گو اس کا اپنا فقرہ ہی یہ بتاتا ہے کہ وہ حضور کو صفت رب العالمین کا ظل سمجھا ہے۔اس لیے اعتراض کا ہونا اس بات کی علامت نہیں کہ آپ الْحَمدُ کے مستحق نہیں۔وہ اعتراض اتنا غیر معقول تھا کہ اپنی ذات میں ثابت کر رہا تھا کہ آپ رب العالمین کے ظل ہیں اور اس لیے آپ اَلْحَمْدُ لِلهِ کے بھی ظل ہیں اور ہر قسم کی