خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 66

$1955 66 خطبات محمود جلد نمبر 36 کوئی شخص اُن کے پاس آجائے تو آجائے۔گویا اُن کی مثال پرانے زمانہ کے زاویہ نشین اور صوفیوں کی سی ہے کہ کوئی آدمی اُن کے پاس آجائے تو وہ اُس سے بات کر لیتے ہیں ورنہ خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ہم انہیں اخراجات مہیا کریں گے تو وہ باہر نکلیں گے۔اخراجات کے بغیر وہ ادھر اُدھر کس طرح پھر سکتے ہیں۔اگر ہم انہیں سفر خرچ کے لیے روپیہ نہیں دیتے۔صرف روٹی کا خرچ دے دیتے ہیں تو وہ اپنی روٹی کھا لیا کریں گے اور سارا دن اس انتظار میں بیٹھے رہیں گے کہ کوئی شخص اُن کے پاس آئے اور وہ اُسے تبلیغ کریں۔گویا اُن کی مثال ایک مکڑی کی سی ہوگی جو اپنا جالا بن کر اس انتظار میں رہتی ہے کہ کوئی اُس کے جالے میں پھنسے اور وہ اُس کا شکار کرے۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم انہیں سفر کے لیے خرچ دیں۔لیکچروں کے لیے خرچ دیں ، اسی طرح لٹریچر دیں تا کہ وہ اسے لوگوں میں تقسیم کر سکیں۔جہاں جماعت قائم ہو چکی ہے وہاں تو مبلغین کچھ نہ کچھ کام کرتے رہتے ہیں لیکن جہاں جماعت قائم نہیں ہوتی وہاں یہی حالت ہے کہ مبلغ سارا دن اس انتظار میں رہتا ہے کہ کوئی شخص خود چل کر اُس کے پاس آئے اور وہ اُسے تبلیغ کرے۔یا پھر وہ دعا کرتا رہتا ہے کہ یا الہی ! کوئی شکار بھیج۔صاف بات ہے کہ اصل شکاری وہی ہے جو شکار کی جگہ پر خود پہنچے۔اگر کسی کے پاس اتفاقی طور پر خود شکار آ جاتا ہے تو وہ کوئی شکاری نہیں جو شکاری کسی درخت کے نیچے بیٹھ جائے اور اس انتظار میں رہے کہ کوئی نیل گائے یا ہرن راستہ بھٹک کر اُس کے پاس آجائے تو وہ شکاری نہیں کہلا سکتا۔غرض ہمارے مشنوں کے لیے مزید سرمایہ کی ضرورت ہے اور اس لیے جماعت کو کسی وقت بھی اپنے فرائض نہیں بھولنے چاہئیں۔ان کے سپر د ایک بہت بڑا کام ہے۔اگر ہم مبلغین کو اخراجات نہیں دیتے تو ان سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔پچھلے دنوں انڈونیشیا سے ہمیں اطلاع آئی کہ وہاں اگر چہ آبادی زیادہ تر مسلمانوں کی ہے لیکن تعلیم میں عیسائیوں کو زیادہ دخل حاصل ہے۔جس کی وجہ سے طلباء عیسائیت کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔بعض طلباء نے میٹنگ کی اور اس میں اُن سوالات پر غور کیا جو وقتاً فوقتاً اُن پر ہوتے رہے ہیں۔اس پر ہمارے مبلغ وہاں گئے اور طلباء نے چاہا کہ انہیں عیسائیت کے خلاف منظم کیا جائے۔لیکن یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہم مبلغین کو لٹریچر مہیا کریں ، سفر کے لیے اخراجات دیں تا کہ وہ طلباء کو منظم کر سکیں۔عیسائیت کا حملہ صرف غیر مسلم ممالک میں ہی نہیں بلکہ مسلم ممالک پر بھی