خطبات محمود (جلد 36) — Page 289
خطبات محمود جلد نمبر 36 289 $1955 سفید ہے۔سوسی ایک کپڑے کا نام ہے جو پرانے زمانہ میں پنجاب میں اکثر استعمال میں آتا تھا۔اس کپڑے کے درمیان سرخ یا سفید دھاریاں ہوتی تھیں یا اس میں مختلف قسم کے نشان ہوتے تھے۔اب اس کپڑے کا رواج نہیں رہا۔کیونکہ اب اس سے اچھی قسم کے کپڑے نکل آئے ہیں۔بہر حال وہ عورت میرے سامنے آئی اور اس نے مجھے سلام کیا۔میں سمجھتا ہوں ( یا وہ خود کہتی ہے ) کہ وہ سید نذیر حسین صاحب مرحوم کی بیوی ہے۔وہ سلام کر کے واپس کوئی تو میں نے اُسے بلایا اور کہا بی بی ! ذرا بات سنو۔جب وہ میرے پاس آئی تو جس طرح مجھے بیداری کے عالم میں یہ فکر تھا کہ سید نذیر حسین صاحب کا معلوم نہیں کوئی بیٹا بھی ہے یا نہیں !۔اسی طرح خواب میں بھی مجھے یہی فکر ہے اور میں نے اُس سے دریافت کیا کہ بی بی ! سید نذیر حسین صاحب کی کوئی اولاد بھی ہے؟ اُس نے کہا سید نذیر حسین صاحب کی اولاد مجھ سے تو نہیں مگر دوسری بیوی سے ہے۔اب مجھے یہ پتا ہی نہیں تھا کہ سید نذیر حسین صاحب مرحوم کی دو بیویاں تھیں۔اس لیے اس خواب کی وجہ سے میں حیران تھا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔و اُن دنوں چودھری ظفر اللہ خاں صاحب ایک لیکچر کے لیے امریکہ گئے ہوئے تھے۔ہالینڈ سے وہ چھٹی پر آئے ہوئے تھے۔امریکہ سے واپسی پر وہ میری خاطر انگلستان آئے اور گووہاں ہر روز بڑے بڑے آدمی اُن کی دعوتیں کرتے رہتے تھے، کبھی پاکستان اور ہندوستان سے گئے ہوئے لوگ اُن کو دعوتوں پر بلا لیتے تھے اور کبھی ایمبیسی والے انہیں دعوت پر بلا لیتے تھے۔مگر کسی نہ کسی طرح وہ اُن سے پیچھا چھڑا کر میرے ساتھ کھانا کھانے کے لیے آجاتے تھے۔بہر حال جب چودھری صاحب انگلستان آئے تو میں نے خیال کیا کہ یہ بھی ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے ہیں شاید سید نذیر حسین صاحب کے خاندان کے متعلق انہیں کچھ علم ہو۔چنانچہ میں نے اُن کے سامنے اپنی خواب بیان کی اور دریافت کیا کہ آپ کے ننھال بھی اسی علاقہ کے ہیں۔کیا آپ کو اس بات کا علم ہے کہ سید نذیر حسین صاحب مرحوم کی ایک بیوی تھی یا دو بیویاں تھیں ؟۔چودھری صاحب نے جواب دیا کہ ذاتی طور پر تو مجھے اس کا علم نہیں۔ہاں میرا خیال ہے کہ ایک دفعہ مجھ سے میرے ماموں چودھری عبداللہ خاں صاحب نے ( جو گھٹیالیاں کے قریب ہی ایک گاؤں دا تا زید کا کے رہنے والے تھے ) میرے سامنے ذکر کیا تھا کہ سید نذیر حسین صاحب کی