خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 18

خطبات محمود جلد نمبر 36 18 $1955 ایک ناول نویس نے فرانس کا ایک قصہ بیان کیا ہے۔اس کے متعلق عام طور پر خیال کیا جی جاتا ہے کہ وہ تاریخی واقعات کو اپنا تا ہے۔فرانس کے بور بن 6 خاندان کو جب ملک سے نکالا گیا تو وہ انگلستان چلا گیا۔اور لندن جا کر بادشاہ نے کوشش کی کہ کسی طرح ملک میں بغاوت پھیلائی جائے۔اُس وقت فرانس میں جمہوریت نہیں تھی طوائف الملو کی پائی جاتی تھی۔غالباً اُس وقت تک نپولین برسر اقتدار نہیں آیا تھا یا اُس کے قریب زمانہ کا یہ واقعہ ہے۔بادشاہ نے لندن سے ایک جہاز میں بعض آدمی فرانس بھیجے کہ وہ فرانس میں جا کر بغاوت پھیلا ئیں۔جہاز کے نچلے حصے میں ہتھیار بھی رکھے ہوئے تھے۔تو ہیں زنجیر کے ساتھ بندھی ہوئی تھیں۔ایک شخص صفائی کے لئے وہاں گیا تو اُس سے ایک زنجیر گھل گئی اور توپ جہاز کے اندرلڑھکنے گی اور خطرہ پیدا ہو گیا کہ کہیں جہاز ٹوٹ نہ جائے۔سارے لوگ جہاز کو بچانے کے لئے بھاگے۔بادشاہ کا نمائندہ بھی وہاں تھا۔یہ حالت دیکھ کر اُس شخص نے جس سے گنڈا کھلا تھا چھلانگ لگا دی اور اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر گنڈا لگانے میں کامیاب ہو گیا۔اس پر بادشاہ کے نمائندہ نے سب لوگوں کو اکٹھا کیا اور کہا اس شخص نے بہت بڑی بہادری کا کام کیا ہے۔اور ایک تمغہ جو فرانس میں سب سے زیادہ عزت والا سمجھا جاتا ہے لے کر کہا میں بادشاہ کی طرف سے یہ تمغہ بہادری کے صلہ میں اس کے سینہ پر لگاتا ہوں۔اس کے بعد اس نے کمانڈر کو حکم دیا کہ اسے لے جاؤ اور گولی مار دو۔اتفاقاً جہاں اُترنا تھا وہاں سمندر میں سخت طوفان آیا ہوا تھا اور خطرہ تھا کہ کہیں جہاز غرق نہ ہو جائے۔اُس وقت جہاز کے کمانڈر نے کہا کہ اس وقت مجھے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو یقینی موت کو قبول کر لے۔چنانچہ ایک ملاح آگے آیا۔اُس نے اُسے حکم دیا کہ اس شخص کو کشتی میں بیٹھا کر ساحل فرانس تک پہنچا دو۔طوفان زوروں پر تھا لیکن وہ ملاح کا میابی کے ساتھ ساحل فرانس پر پہنچ گیا۔وہاں پہنچ کر ملاح نے اپنا پستول نکال لیا اور کہا میں نے اپنی جان کو صرف اس لئے خطرہ میں ڈالا تھا کہ تم سے اپنے بھائی کا بدلہ لوں۔اس نے کہا تم نے حقیقت پر غور نہیں کیا۔تمہارے بھائی نے ایک نیک کام کیا تھا اور ایک بُرا کام کیا تھا۔میں نے اُس کے اچھے کام کا اچھا بدلہ دیا اور فرانس کا سب سے بڑا تمغہ اُسے لگایا اور اسکے بُرے کام کے بدلہ میں اُسے گولی سے ماردینے کا حکم دیا۔تم جانتے ہو کہ میں بادشاہ کے مفاد کی خاطر یہاں آیا ہوں اور اپنے مقصد میں