خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 266

خطبات محمود جلد نمبر 36 266 $1955 یہ کہا ہے کہ میونسپل کمیٹی شہر کی صفائی کا انتظام کرے۔ٹیوب ویل لگا کر پانی بہم پہنچائے اور رولر منگوا کر سڑکوں کو پختہ کرنے کا انتظام کرے۔اسی طرح میں نے دوستوں سے کہا ہے کہ وہ میونسپل کمیٹی کے ٹیکس ادا کریں اور محلوں کی لوکل کمیٹیاں میونسپل کمیٹی سے متعلق امور کے متعلق ریزولیوشن پاس کر کر کے اسے بھیجیں اور کہیں کہ ہم کمیٹی کا ایک وارڈ ہونے کی حیثیت سے یہ ریزولیوشن آپ کو بھجواتے ہیں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ اس پر پوری توجہ دی جائے۔اگر کمیٹی کے ممبران ریزولیوشنوں کی طرف توجہ نہ دیں تو اگلی دفعہ ان کو ممبر نہ بنایا جائے۔بلکہ ایسے لوگوں کو ممبر چنا جائے جو واقع میں لوگوں کی خدمت کریں اور شہر کی صفائی کا انتظام کریں۔کیونکہ شہر کی صفائی کا با قاعدہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے شہر کی جو بد نامی ہوتی ہے اس سے سلسلہ کی بھی بدنامی ہوتی ہے۔ربوہ مشہور شہر ہے جو لوگ پاکستان آئیں گے وہ اب یہاں بھی آئیں گے۔اگر یہاں صفائی کا معیار دوسرے شہروں کی صفائی سے بلند ہوگا تو وہ یہ نہیں کہیں گے کہ احمدیوں کی تنظیم تو بہت اچھی ہے لیکن ان کا شہر بہت گندہ ہے۔پس شہر کی صفائی کی طرف توجہ کرو اور درخت اور پھول اور سبزیاں اُگاؤ۔جن لوگوں نے گھروں میں درخت لگائے ہوئے ہیں انہیں دیکھ کر دل بڑا خوش ہوتا ہے۔گلی میں سے گزریں تو لہلہاتے درخت نہایت بھلے معلوم ہوتے ہیں۔لیکن اصل میں یہ کام میونسپل کمیٹی اور لوکل انجمن کا ہے۔اگر سارے مل کر کوشش کریں تو وہ شہر کو دلہن بنا سکتے ہیں۔اور اگر ایسا ہو جائے تو باہر سے آنے والے یہاں سے خوشگوار اثر لے کر جائیں گے۔دیکھو رسول کریم ﷺ نے چھوٹی چھوٹی باتوں میں کتنے بڑے بڑے نکات بیان فرمائے ہیں۔احادیث میں آتا ہے آپ نے فرما یا اِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ -4 - اللہ تعالیٰ خود بھی خوبصورت ہے اور وہ خوبصورتی کو پسند بھی کرتا ہے۔اب يُحِبُّ الْجَمَال کے یہ معنے تو نہیں کہ انسان کے ناک، کان ، ہاتھ اور آنکھیں خوبصورت دکھائی دیں۔یہ چیزیں تو انسان آپ بنا تا ہی نہیں یہ تو خدا تعالیٰ بناتا ہے۔اس لیے يُحِبُّ الْجَمَالَ سے وہ خوبصورتی مراد نہیں جو خدا تعالیٰ بنا تا ہے۔بلکہ اس سے مراد وہ خوبصورتی ہے جو ہمارے اختیار میں ہے۔اور وہ صفائی ہے۔ہر چیز کو نظافت سے رکھنا اور ہر چیز کو سلیقہ سے رکھنا یہی وہ جمال ہے جو ہم خود بناتے ہیں۔ورنہ ناک، کان ، ہاتھ اور آنکھیں تو نہ ہم بناتے ہیں اور انسانوں میں سے کوئی اور بناتا ہے۔ان کو