خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 220

$1955 220 خطبات محمود جلد نمبر 36 گا کہ سینکڑوں نہیں ہزاروں افراد احمدیت میں داخل ہوں۔اگر وہ ایک احمدی بنالینے پر فخر کرے گا تو وہ بے ایمان ہوگا۔میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہے۔جب بھی مجھے کوئی ضرورت پیش آئی ہے اُس نے اُسے غیب سے پورا کیا ہے۔میں نے کسی سے کبھی مانگا نہیں۔ہاں اگر کوئی خوشی سے کوئی چیز پیش کرتا ہے تو میں اُسے لے لیتا ہوں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بچپن میں میں گھر سے باہر نکلا تو ایک دوست نے میرے ساتھ مصافحہ کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔میں نے بھی اُس کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔اُس نے میرے ہاتھ پر ایک چونی رکھ دی۔میں نے اس میں بڑی ذلت محسوس کی۔اور میں نے بڑبڑا کر کہا میں یہ چونی نہیں لیتا اور گھر کی طرف بھاگ گیا۔گھر جا کر میں نے یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بیان کیا۔آپ نے مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ایک حدیث سنائی کہ مَا أُعْطِيتَ بِغَيْرِ اسْتِشْرَافِ نَفْسِكَ فَخُذْهُ بَارَكَ اللهُ لَكَ 8 یعنی جو کوئی تجھے بغیر سوال کرنے کے کچھ دے تو اُسے قبول کرلے۔اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے گا۔اور فرمایا یہاں چونی کا سوال نہیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے الہام بتایا ہے کہ وہ لوگوں کو وحی کرے گا کہ وہ میری مدد کریں 9۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہی اُس شخص کو وحی کی تھی اور وہ یہاں آیا تھا۔اس لیے تم نے اُس چونی کے لینے سے کیوں انکار کیا ؟ تم کو تو اُس چونی کی قدر کرنی چاہیے تھی۔پس جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے اور اُس سے رات دن دعائیں مانگتا ہے تو خدا تعالیٰ دلوں کی کھڑکیاں کھول دیتا ہے۔پس تم دعائیں مانگولوگوں کے دلوں کی کھڑکیاں خود بخود کھل جائیں گی۔پھر سینکڑوں نہیں لاکھوں اور کروڑوں افراد ہر سال احمدیت میں داخل ہوں گے۔یوں تو دوسرے لوگ ہم پر اعتراض کرتے ہیں۔لیکن واقع یہ ہے کہ ہم افریقہ ، امریکہ اور دوسرے تمام ممالک میں غیر مسلموں کو مسلمان بنا رہے ہیں اور انہیں رسول کریم ﷺ کی امت میں شامل کر رہے ہیں۔اس کے بعد جو شخص احمدیت کو سمجھ لیتا ہے وہ ہمارے عقائد بھی اختیار کر لیتا ہے۔ورنہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ اُسے احمدیت کی تو سمجھ نہیں آئی ہاں اسلام کی سمجھ آگئی ہے اُسے ہم یہی کہتے ہیں کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔پھر احمدیت سمجھ آ جائے تو اسے قبول کر لینا۔اور اگر سمجھ نہ آئے تو بے شک اُسے قبول نہ کرنا۔ہماری غرض تو صرف یہی ہے کہ لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں۔